ای سی او میں اعلیٰ حکام کی عدم موجودگی افغانستان کا اپنا فیصلہ ہے: نفیس ذکریا

نفیس ذکریہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں اقتصادی تعاون کی تنطیم یا ای سی او کے اجلاس میں افغانستان کے اعلی حکام کی عدم موجودگی افغانستان کا اپنا فیصلہ ہے۔

تاہم نفیس ذکریا نے کہا کہ افغان سفیر کی شرکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک خطے میں ترقی اور امن کے لیے مل کر کام کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔

منگل کو اسلام آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار ارم عباسی سے بات کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’یہ تو ان کا اپنا فیصلہ ہے۔ جو بھی حالات ہیں افغانستان میں انھوں نے اس کے مطابق یہ فیصلہ لیا، لیکن ظاہر ہے کہ وہ ای سی او کے اہم رکن ہیں اور ہم افغانستان میں امن چاہتے ہیں کیونکہ یہ خطے کے لیے اہم ہے۔‘

خیال رہے کہ بدھ کو اسلام آباد میں دس ممالک پر مبنی اقتصادی تعاون کی تنظیم کا 13واں اجلاس ہو رہا ہے۔

اس اجلاس میں شرکت کے لیے ایران کے سربراہ حسن روحانی منگل کو اسلام آباد پہنچے ہیں جبکہ ترکی اور افغانستان کے علاوہ تنظیم کے دیگر رکن ممالک بھی اسلام آباد میں موجود ہیں۔

اجلاس کی اہمیت سے متعلق نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ ’ترقی یافتہ مملک میں کساد بازاری کا عالم ہے اس لیے ساری دنیا کی نظریں ترقی پذیر ممالک پر ہیں اور خصوصاً وسطی ایشیا پر جس میں اقتصادی تعاون کی مختلف تنظیمیں موجود ہیں جن میں ای سی او کی بہت اہمیت ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بدھ کو اسلام آباد میں دس ممالک پر مبنی اقتصادی تعاون کی تنظیم کا 13واں اجلاس ہو رہا ہے

نفیس ذکریا نے مزید بتایا کہ ’ایک تو اس خطے میں معدنی ذخائر موجود ہیں جنھیں اب تک استمعال نہیں کیا گیا، دوسرا یہ کہ پاکستان کی طرح دیگر ملک بھی توانائی کی کمی کا شکار ہیں اس لیے ہم مل کر اس کا حل تلاش کر سکتے ہیں اور پھر ای سی او میں شامل ممالک میں کم مزدوری ہونے سے ترقی کی راہ اور بھی ہموار ہو جاتی ہے۔‘

اس سوال پر کہ خطے میں ترقی کیسے آئے گی جب سارک بھی سیاست کی نظر ہو گئی اور اسے منسوخ کرنا پڑا اور ای سی او کا تو اجلاس ہی پانچ برس بعد ممکن ہوا؟

نفیس ذکریا نے کہا کہ ’میں ای سی او کے اجلاس میں تاخیر کے عوامل تو نہیں جانتا لیکن سارک کی اپنا جگہ ہے جبکہ ای سی او کے الحاق میں مختلف ممالک شامل ہیں۔ اس سے ہم خطے کو مختلف مواصلاتی پروجیکٹس کے ذریعے ملانا چاہتے ہیں اور سارک بھی ختم نہیں ہوئی صرف منسوخ ہوئی ہے اور بہت جلد جب حالات بہتر ہو گئے تو سارک کا اجلاس بھی منعقد ہو گا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں