فوجی عدالتوں میں توسیع پر تنازع کیا؟

پاکستان میں میں فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع اور اختیارات سے متعلق آئینی ترمیم کے مسودے پرحزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ حزبِ مخالف کی دوسری بڑی جماعت تحریک ِانصاف کا مؤقف ہےکہ پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کی توسیع کے معاملے پر سیاست کر رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما قمرالزماں کائرہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ'پیپلز پارٹی کے تحفظات حقیقی ہیں کیونکہ اس طرح کے خصوصی طور پر بنائِے گئے تمام قوانین پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنوں کےخلاف بہت استعمال ہوئے۔'

فوجی عدالتیں کتنی مؤثر؟

فوجی عدالتیں اور انصاف کے تقاضے

پیپلز پارٹی نے 4 مارچ کو کثیر الجماعتی کانفرنس طلب کر رکھی ہے لیکن ملک میں حزبِ اختلاف کی دوسری بڑی جماعت تحریک انصاف نےاس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ایسی صورت میں پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع سے انکار کے لیے دیگر جماعتوں کو کیسے قائل کرےگی؟

قمرالزماں کائرہ نے بتایاکہ 'ضرورت ہے کہ حزبِ اختلاف کی تمام جماعتیں ایک ساتھ بیٹھیں اور مشاورت کریں۔ ہماری ٹیم شاہ محمود قریشی سے ملی ہے۔میرے خیال میں انہیں اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔اس وقت صرف ایک فوجی عدالتوں کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ دیگر مسائل بھی ہیں جن پر مشاورت کی ضرورت ہے جیسا کہ پاناما ہے، ردِالفساد ہے یا پھر پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی کا مسئلہ ہے۔'

لیکن تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ'اصل تنازع یہ تھا کہ ملٹری کورٹس ہونے چاہئییں یا نہیں؟ اس پر پیپلز پارٹی بھی مانی ہوئی ہے لیکن پیپلز پارٹی اس پرسیاست کر رہی ہے۔ اس لیے ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ہم ایک بے معنی کام کا حصہ بنیں۔'

شفقت محمود نےکہا کہ'یہ سب یپپلز پارٹی اپنی شناخت بنانے کے لیے کر رہی ہے جو اس وقت کافی کمزور ہو چکی ہے۔تمام پارٹیز متفق ہو چکی ہیں لیکن یہ مردہ گھوڑےکو پیٹنا چاہتے ہیں تو پیٹتے رہیں۔`

یاد رہےکہ تحریک انصاف نے بھی فوجی عدالتوں کی توسیع کی مخالفت کی تھی لیکن حکومتی ارکان کی مشاورت کے بعد انہوں نے فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع اور اختیارات سے متعلق آئینی ترمیم کے مسودے پراتفاق کیا ہے۔

حکومتی یقین دہانی کےبارے میں سوال پر شفقت محمود نے بتایا کہ'ہمارے تحفظات تھے کہ بہت سے لوگ مذہب اور فرقے کا نام لےکر دہشت گردی کرتے ہیں اور ہم نے اس کی نشاندہی کی تھی۔انھوں نے مسودے کی زبان کوٹھیک کر دیا ہے۔باقی ہم سمجھتے ہیں کہ ملٹری کورٹس اس وقت کی ضرورت ہیں۔اب حکومت نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ دو سال میں سول عدالتوں کے نظام کو بہتر کر دیں گے۔'

البتہ پیپلز پارٹی کے رہنما قمرالزماں کائرہ نے سوال کیا کہ 'حکومت پہلے یہ تو بتائے کہ دو سال پہلےجو شرائط رکھی تھیں اُس پر کیا پیش رفت ہوئی ؟'

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے تحفظات اور ان سےمشاورت کیے بغیر اگرحکومتِ وقت فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کرتی ہے تو پیپلز پارٹی کی قیادت کثیر الجماعتی کانفرنس میں آگے کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی۔'

اسی بارے میں