فاٹا اصلاحات، صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام پانچ سال بعد

قبائلی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں اصلاحات کی اصولی منظوری دے دی ہے۔

ان سفارشات کے تحت قبائلی علاقہ جات کو اصلاحات کے بعد پانچ برس کے عرصے میں خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا جائے گا۔

٭ فاٹا اصلاحات کی کہانی

٭ فاٹا اصلاحات پر اتفاق کیوں نہیں؟

اصلاحات کی منظوری کا فیصلہ جمعرات کو کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق کابینہ نے جن اصلاحات کی منظوری دی ہے ان میں فاٹا کو خیبر پختونخوا کا حصہ بنانے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ قبائلی قانون ایف سی آر کے خاتمہ کرنے کے لیے آئینی اصلاحات کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اصلاحات کے تحت این ایف سی میں فاٹا کے لیے تین فیصد حصہ مختص کیا جائے گا جبکہ قبائلی علاقہ جات کی ترقی کے لیے ایک دس سالہ منصوبہ بھی بنے گا۔

اس کے علاوہ فاٹا میں جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد اور فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

Image caption فاٹا کے عوام ایف سی آر کے خلاف مظاہرے کرتے رہے ہیں

اصلاحات میں قبائلی علاقہ جات میں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے بینچ قائم کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔

سفارشات میں کہا گیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں تعینات فوج کے انخلا کے لیے لیویز میں 20 ہزار مقامی افراد کو بھرتی کیا جائے۔

کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ قومی وسائل پر فاٹا کےعوام کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا دوسرے صوبوں کے عوام کا اور قومی آمدنی سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر،گلگت بلتستان اور فاٹا کو ان کا حصہ ملنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ قبائلی عوام کو بھی پاکستانیت کے قومی دھارے میں لایا جائے جس سے ان کی سال ہا سال سے جاری محرمیوں کا خاتمہ ممکن ہوگا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ہر پاکستانی کا ہے اور کم ترقی یافتہ اور پسماندہ علاقوں کےعوام کو ترقی کے ہر ممکن مواقع ملنے چاہییں جبکہ پیچھے رہ جانے والے علاقوں اور عوام پر خاص توجہ دینا ہوگی۔

خیال رہے کہ وزیر اعظم نوازشریف نے گذشتہ سال فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔ وزیر خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی نے تمام قبائلی ایجنسیوں کے دورے کر کے ایک رپورٹ تیار کی تھی جسے بعد میں وزیراعظم اور قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ John Moore
Image caption پاکستان میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات میں خیبر، مہمند، کرّم، شمالی و جنوبی وزیرستان، اورکزئی اور باجوڑ کی ایجنسیاں شامل ہیں

بعد ازاں وزیراعظم کی طرف سے اصلاحاتی کمیٹی کو ہدایت کی گئی کہ فاٹا کے تمام سٹیک ہولڈرز اور اصلاحات کے مخالف سیاسی جماعتوں جے یوآئی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی سے مشارت کر کے ایسا فیصلہ کیا جائے جس پر سب متفق ہوں۔

واضح رہے کہ وفاقی کابینہ کے گذشتہ اجلاس میں فاٹا اصلاحات کو حتمی منظوری دینے کے معاملے کو وفاقی کابینہ کے گذشتہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا گیا تھا تاہم وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع ہونے سے قبل اس کو ایجنڈے سے نکال دیا گیا تھا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں کے ارکان نے حکومت کے اس عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

خارجہ امور سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے فاٹا ریفارمز کی کمیٹی کے ارکان کے ساتھ میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مردم شماری کے بعد اگلے سال ہونے والے عام انتخابات میں فاٹا کے عوام صوبہ خیبر پختون خوا کی اسمبلی کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان علاقوں میں رائج ایف سی آر کے قانون کو ’رواج سسٹم‘ کی جگہ تبدیل کردیا جائے گا اور یہ کام مرحلہ وار ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ اس نظام کی نگرانی بھی جج کرے گا اور اگر کوئی اس نظام کے تحت ہونے والے فیصلے سے مطمین نہ ہو تو وہ اس کو اعلی عدالتوں یعنی پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کرسکتے ہیں۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کی طرف سے کمیٹی کی طرف سے پیش کردہ سفارشات کی منظور کے بعد انہیں پارلیمنٹ میں پیش کردیا جائے گا جہاں سے منظوری کے بعد ان سفارشات پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پانچ سال کے دوران ان علاقوں کے مالی اور سیکیورٹی کے معاملات کی نگرانی وفاقی حکومت کرے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت ان علاقوں میں 20 ہزار کے قریب لیویز کے اہلکار بھرتی کرہے گی جسے پولیس کے اختیارات حاصل ہوں گے تاہم پانچ سال کے بعد اس وقت کی صوبائی حکومت مجاذ ہوگی کہ وہ لیویز کو پولیس کے محکمے میں ضم کرتی ہے یا پھر اس کو لیویز ہی برقرار رکھتی ہے۔

اسی بارے میں