فاٹا اصلاحات: ’استعماری قوتوں کی سازش یا آزادی کا راستہ‘

فاٹا
Image caption پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر عثمان کاکڑ نے ان اصلاحات کو پنجاب کی استعماری قوتوں کی سازش قرار دیا۔

وفاقی حکومت کی کابینہ کی جانب سے فاٹا میں اصلاحات کی منظوری کے بعد سیاسی جماعتوں نے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

کسی نے اسے پشتون دشمنی قرار دیا تو کسی نے رواج ایکٹ پر خدشات ظاہر کیے اور کچھ جماعتوں نے تحفظات کے باوجود ان اصلاحات کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ان اصلاحات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے تحفظات براہ راست وزیر اعظم نواز شریف کو پیش کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک قانون سازی مکمل نہیں ہوتی تب تک ان کے پاس وقت ہے اور وہ اس پر آواز ضرور اٹھائیں گے۔

مولانا فضل الرحمان سے جب پوچھا گیا کہ ان کے اور محمود خان اچکزئی کے علاوہ تمام جماعتیں ان اصلاحات کی حمایت کر رہی ہیں، تو انھوں نے کہا کہ وہ اس پر حیران ہیں کہ سابق حکومت کے دور اور اس حکومت کے ابتدائی دنوں میں جنھوں نے فاٹا کے جرگے کی حمایت کا اعلان کیا تھا، آج وہ اس سے انحراف کر رہے ہیں۔

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹر عثمان کاکڑ نے ان اصلاحات کو پنجاب کی استعماری قوتوں کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مسلم لیگ نواز کی پشتون دشمنی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس سے فاٹا کے عوام کو غلام بنانے کی سازش کی جا رہی ہے اور وہ اسے تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں اپنی جماعت کے اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

ان سے جب پوچھا کہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی تو مسلم لیگ نواز کی اتحادی جماعت ہے، تو سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ وہ مرکز میں میاں نواز شریف کے اتحادی نہیں ہیں جبکہ صوبے کی سطح پر بلوچستان میں ہمیشہ چار پانچ جماعتوں کی اتحادی حکومت بنتی ہے اور وہ اس اتحادی حکومت کی حصہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت کا منشور یہی ہے کہ فاٹا کی اپنی کونسل ہو اس کا اپنا گورنر ہو، ایف سی آر کا خاتمہ ہو اور فاٹا کے عوام کی مرضی کے مطابق فیصلہ ہونا چاہیے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اخونزادہ چٹان نے مجموعی طور پر اسے خوش آئند قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ رواج ایکٹ پر انھیں تحفظات ہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس رواج ایکٹ کے ذریعے دوبارہ ایف سی آر کہیں قبائلی علاقوں میں نافذ نہ کر دیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ مجموعی طور پر وہ ان اصلاحات کے حق میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ JOHN MOORE
Image caption جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وہ اپنے تحفظات براہ راست وزیر اعظم نواز شریف کو پیش کریں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ انھیں مایوسی ہوئی ہے کیونکہ بیشتر اصلاحات کے لیے یا تو کمیٹی بنا دی گئی ہے اور یا انھیں سال دو ہزار اٹھارہ تک لٹکا دیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ کمیٹیوں کے حوالے کام کرنا اس کام کو نہ کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔

قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل نے کہا ہے کہ ان کے لیے آج آزادی کا دن ہے اور وہ اور قبائلی علاقے کے لوگ اس پر خوش ہیں کہ اب انھیں وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو ملک کے دیگر علاقوں میں بسنے والے لوگوں کو حاصل ہیں۔

شاہ جی گل آج کابینہ کے اجلاس میں بھی موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ اس کا نفاذ اب ہو گیا ہے اور نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد تمام اصلاحات ترتیب وار نافذ ہونا شروع ہو جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اب قبائلی علاقوں کے لوگ بھی صوبائی اسمبلی کا حصہ بن سکیں گے اور بلدیاتی کونسلز بھی قائم ہوں گی اور ایف سی آر کا خاتمہ ہو گا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ مجموعی طور پر یہ خوش آئند ہے لیکن ایک تو رواج ایکٹ پر ان کے تحفظات ہیں اور دوسرا اوور سایٹ کمیٹی میں صرف افسران کو شامل نہ کیا جائے بلکہ اس میں عوامی نمائندوں کو شریک کرنا چاہیے تاکہ برابری کی بنیاد پر یہ سارا عمل مکمل کیا جا سکے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور وزیراعظم کے مشیر امیر مقام نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے وہ کام کر دکھایا ہے جو 70 سالوں میں کوئی نہیں کر سکا۔

انھوں نے کہا کہ ان اصلاحات سے قبائلی علاقوں کے لوگوں کو قانون تک رسائی اور کالے قوانین سے نجات ملے گی۔ انھوں نے کہا کہ یہ میاں نواز شریف کی ذاتی کوششوں سے ممکن ہو سکا ہے۔

اسی بارے میں