فاٹا اصلاحات پر اتنڑ اور بھنگڑے

پاکستان کی وفاقی کابینہ کی طرف سے فاٹا اصلاحات کی اصولی منظوری دینے کے اعلان کے ساتھ ہی پشاور میں مقیم قبائلی طلبہ اور فاٹا کے باشندوں نے سڑکوں پر نکل کر خوشی کا اظہار کیا اور ڈھول کی تھاپ پر روایتی قبائلی رقص اتنڑ پیش کیا اور بھنگڑے بھی ڈالے۔

پشاور میں آج یعنی جمعرات کی صبح ہی سے قبائلی طلبہ متحرک نظر آئے۔ تاہم جوں ہی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر فاٹا اصلاحات کی منظوری کی خبریں گردش کرنے لگیں تو طلبہ کی ایک بڑی تعداد پشاور کے علاقے ہشتنگری میں واقع شالیمار باغ میں جمع ہونا شروع ہوگئے۔ اور جوں ہی اصلاحات کا باقاعدہ اعلان ہوا اس وقت تک طلبہ کی ایک بڑی تعداد وہاں جمع ہوگئی تھی۔

قبائلی علاقوں میں طلبہ کی نمائندہ تنظیم فاٹا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے درجنوں طلبا کی طرف سے فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی خوشی میں راویتی قبائلی رقص کیا اور بھنگڑے ڈالے۔

اس سلسلے میں طلبا نے پشاور کے علاقے ہشتنگری سے گورنر ہاؤس تک مارچ بھی کیا اور اس دوران 'الوداع الوداع ایف سی آر'، 'مضبوط قبائل مضبوط پاکستان' کے نعرے بھی لگائے گئے۔ طلبہ کے اس مارچ میں قبائلی باشندوں نے بھی شرکت کی۔

فاٹا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے صدر شوکت عزیز نے اس موقع پر بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 70 سال کے بعد قبائلی عوام کا دیرینہ مطالبہ بالآخر پورا کیا گیا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ بعض شقوں پر ان کے تحفظات ضرور ہیں جنھیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
فاٹا اصلاحات کی منظوری پر قبائلیوں پر جشن

انہوں نے مزید کہا کہ اعلان کے مطابق فاٹا کو پانچ سال کے عرصے میں خیبر پختونخوا کا حصہ بنایا جائے گا جس پر قبائل کے تحفظات ہیں اور اس عمل کو آئندہ انتخابات سے پہلے پہلے مکمل کرنا چاہیے۔

شوکت عزیز نے کہا کہ ایف سی آر جیسے کالے قانون کا خاتمہ اور قبائلی عوام کو اعلیٰ عدلیہ تک رسائی دینا بہت بڑی کامیابی ہے جو قابل تعریف ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں