پاکستان میں دس ماہ بعد امریکی ڈرون حملہ، دو افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں حکام کے مطابق امریکی ڈرون حملے میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

مقامی پولیٹکل انتظامیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ لوئر کرم ایجنسی میں جعمرات کی دوپہر کو پاک افغان سرحد کے قریب سرہ غوڑگا اور احمدی شمع کے علاقے کے درمیان موٹر سائیکل سوار دو افراد کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں دونوں افراد مارے گئے جبکہ ان کی شناخت شاکر اور قاری عبداللہ کے نام سے ہوئی ہے۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق ہلاک ہونے دونوں افراد افغان طالبان بتائے جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے پاکستان کی سرزمین پر آخری حملہ گذشتہ سال مئی میں صوبہ بلوچستان ضلع نوشکی میں کیا گیا تھا۔

اس حملے میں افغان طالبان کے سربراہ ملا منصور اختر ہلاک ہو گئے تھے۔

اس حملے پر پاکستان نے امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔

پاکستان کے مطابق امریکی ڈرون حملہ پاکستان کی سالمیت اور جغرافیائی خود مختاری اور اقوام متحدہ کے چارٹر جو کہ تمام ممبر ممالک کی سرحدی خومختاری کی ضمانت دیتا ہے کی خلاف ورزی ہے۔

ماضی میں قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے معمول بن گئے تھے جنھیں پاکستان کے خدشات اور احتجاج کے باوجود امریکہ شدت پسندی کے خلاف موثر ہتھیار قرار دیتا رہا ہے۔

اسی بارے میں