’عمران خان حسبِ معمول تاریخ کی غلط جانب، پہلے طالبان اور اب پی ایس ایل ‘

پی ایس ایل تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لاہور میں خواتین پی ایس ایل کا ٹکٹ دکھا رہی ہیں

سوشلستان میں ان دنوں پاکستان سُپر لیگ کا بخار عروج پر ہے۔ کون آ رہا ہے اور کون نہیں آرہا۔ ٹکٹ ختم ہو گئے یا نہیں اور لوگوں کا غم و غصہ کہ انھیں ٹکٹ کیوں نہیں ملا۔ تو اسی حوالے سے بات کرتے ہیں کہ آخر کیوں پی ایس ایل کے لاہور میں انعقاد پر رائے منقسم ہے اور لوگ عمران خان کے بیانات پر اتنے سیخ پا کیوں ہیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کو لاہور میں پاکستان سپُر لیگ کے فائنل کے انعقاد پر اعتراض ہے اور وہ اس بات کو برملا کہہ رہے ہیں۔

’باغی بہت بڑا ہوں مجھے مار دیجیے‘

امریکە میں اسلام بذریعہ ٹرمپ

عمران خان نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'فائنل لاہور میں کروانے کا فیصلہ احمقانہ ہے اور کرفیو لگا کر تو میچ عراق اور شام میں بھی کروائے جا سکتے ہیں۔'

عمران خان کا کہنا تھا کہ 60 ہزار اہلکار لگا کر یہ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جیسے سب کچھ ٹھیک ہے تو اگر سب ٹھیک ہے تو پورا ٹورنامنٹ پاکستان میں کیوں نہیں کرواتے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان نے کہا کہ 60 ہزار اہلکار لگا کر یہ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جیسے سب کچھ ٹھیک ہے

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے عباس نے ٹویٹ لکھی کہ 'عمران خان کیوں پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کروانے کے خلاف ہیں؟ یہی لوگ سکیورٹی مہیا کرنے پر لگے ہوتے اگر وہ وزیراعظم ہوتے۔ ان لوگوں کو ہماری حمایت چاہیے۔'

احد عباسی نے لکھا کہ 'عمران خان کو پی ایس ایل کو سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہیے۔ خدا کے لیے آپ ایک مایہ ناز کرکٹر رہ چکے ہیں ہمیں خود سے نفرت کروانے پر مجبور نہ کریں۔'

عدیم غفار رانا نے لکھا: 'عمران خان حسبِ معمول تاریخ کی غلط جانب ہیں۔ اس سے پہلے طالبان کے معاملے پر اور اب پی ایس ایل کے حوالے سے۔'

حسین فاروق کا کہنا تھا کہ 'میرے اندازے کے مطابق میں عمران خان سے متفق ہوں کہ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کرانا بہت بڑا خطرہ ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے چونکہ کوئی غیر ملکی کھلاڑی نہیں آ رہا ہے۔'

منصور علی خان نے لکھا کہ 'چونکہ عمران خان سمجھتے ہیں کہ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں کرانا خطرناک ہے انھیں ایک کم درجے کا پاکستانی نہیں بناتا۔ براہِ مہربانی لوگوں کو اس طرح پرکھنا بند کریں۔'

احسن زوار نے لکھا 'عمران خان نے پی ایس ایل کے فائنل کے بارے میں جو کہا ہے اس میں کچھ غلط نہیں۔ یہ اُن کا نقطۂ نظر ہے جس کا احترام کیا جانا چاہیے اور ان کے تحفظات درست ہیں۔'

عمر اکمل ایک بار پھر ٹریفک پولیس کے ساتھ

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption عمر اکمل کو مخاطب کر کے لکھی گئی ٹویٹ

پاکستانی کرکٹر عمر اکمل اور ان کے حوالے سے کبھی ٹریفک پولیس اور کبھی دوسرے حکام خبروں میں رہتے ہیں اور اس بار محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے اہلکار خبروں میں ہیں۔ عمر اکمل کو حکام نے اُن کی غیر قانونی نمبر پلیٹ کی وجہ سے روکا جس پر ہنگامہ ہوا۔

عمر اکمل کا کہنا ہے کہ پولیس والے نے اُن سے برے طریقے سے بات کی مگر پنجاب کے وزیراعلیٰ کے امن عامہ پر سوشل مانیٹرنگ یونٹ نے عمر اکمل کو ٹوئٹر پر مخاطب کر کے کہا کہ 'عمر اکمل آپ کی کار پر غیر قانونی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی اور حکام قانون پھر عمل کرتے ہوئے انہیں ضبط کر سکتے ہیں اور ہٹا سکتے ہیں۔ براہِ مہربانی اپنے عمل سے مثالی نمونہ پیش کریں اور قانونی نمبر پلیٹس استعمال کریں۔'

عمران مغل نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ 'اس حرکت پر کوئی سزا نہیں دی گئی؟'

اس ہفتے کا تعارف

اس ہفتے ذکر کریں گے کرکٹ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر سرگرم خواتین میں سے ایک انعم ندیم کا۔ انعم کا تعلق سیالکوٹ سے ہے اور وہ نہ صرف کرکٹ دیکھنے کی شوقین ہی بلکہ کھیلتی بھی ہیں۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بائیکر مہوش اخلاق نے پاکستان کا بائیک ٹور کراچی سے شروع کیا۔
تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ملتان کے ایک ریستوران میں روبوٹ ویٹر کھانا لے کر جا رہے ہے۔ اس روبوٹ کو سید عثمان عزیز نے بنایا ہے جو الیکٹریکل انجینیئرنگ کے طالب علم ہیں۔ اس پر ان کے چار لاکھ روپے لگے اور یہ آٹھ مہینے میں تیار ہوا۔

اسی بارے میں