ایچ آر سی پی کی گلگت بلتستان پر رپورٹ میں حکومت پر شدید تنقید، خفیہ اداروں کو لگام دینے کا مطالبہ

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایچ آر سی پی کی رپورٹ کے مطابق گلگلت بلتستان کے کئی سو نوجوان اور سیاسی کارکن انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت جیلوں میں قید ہیں

پاکستان میں حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں خفیہ اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکا جائے۔

گلگت بلتستان پر جاری ہونے والی اپنی تازہ رپورٹ میں کمیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان اداروں کی جانب سے نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قوانین کے بے جا استعمال کو روکا جائے۔

’لوگوں کو انٹیلیجنس ایجنسیاں اٹھاتی ہیں‘

ہیومن رائٹس کمیشن کی سابق سربراہ، ممتاز قانون دان اور حقوق انسانی کی کارکن عاصمہ جہانگیر نے اس رپورٹ کے لیے حقائق جاننے کی خاطر گذشتہ برس اگست میں دورہ کیا تھا۔ اسلام آباد میں آج اس رپورٹ کو جاری کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ گلگت بلتستان کے جمہوری فورمز کو مزید اختیارات دے، مقامی لوگوں میں سے جج تعینات کرے اور یہاں کے آئی ڈی پیز کے مسائل حل کرے۔

Image caption عاصمہ جہانگیر کے مطابق گلگت بلتستان میں کوئی ذرا سی بھی تنقید کرے ایجنسیاں انہیں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت فوراً گرفتار کر لیتی ہیں۔

بی بی سی اردو کی نامہ نگار ارم عباسی سے بات کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ 'نیشنل ایکشن پلان کے تحت خفیہ اداروں کو اختیارات دے دیے گئے ہیں کہ وہ لوگوں پر نظر رکھیں اور جب بیس بائیس برس کے نوجوان واچ لسٹ پر ہوں گے تو اس سے خوف کی فضا تو پیدا ہو گی۔ اگر کوئی ذرا سی بھی تنقید کرے ایجنسیاں انہیں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت فوراً گرفتار کر لیتی ہیں'۔

رپورٹ کے مطابق کئی سو نوجوان اور سیاسی کارکن انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت جیلوں میں ہیں اور گلگت بلتستان کی عوام کے حقوق کے لیے اٹھنے والی ہر آواز کو دبا دیا جاتا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کے اختیارات کی نگرانی کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کمیشن نے کہا ہے چین اور پاکستان کے درمیان راہداری یا سی پیک کے لیے گلگت بلتستان کی حکومت نے مبینہ طور پر مقامی شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انھیں زبردستی گھروں سے نکالا ہے اور ان کی زمینیں ہھتیا لی ہیں جبکہ چیف سیکریٹری نے شہریوں کی زمینیں ریاستی اداروں کو الاٹ کرنے کا نوٹیفیکشن بھی جاری کیا ہے۔

نمبر شمار جگہ ڈپارٹمنٹ کا نام خاصرا نمبر تعداد
ایک چلمس داس ایف سی این اے A/1250 500 کنال
آئی ایس آئی سب سیکٹر، گلگت B/1250 10 کنال
دو منا وار ایف سی این اے 20512055 500 کنال
آئی ایس آئی سب سیکٹر، گلگت 2051 10 کنال
تین منی مل ایف سی این اے بنجر زمین 500 کنال
آئی ایس آئی سب سیکٹر، گلگت بنجر زمین 10 کنال
چار مقپون داس ایف سی این اے بنجر زمین 1000 کنال
آئی ایس آئی سب سیکٹر، گلگت بنجر زمین 20 کنال

کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مقپون داس کے علاقے میں مقامی حکومت نے مبینہ طور پر لوگوں سے گھر اور زمینیں چھینی ہیں۔

اس سلسلے میں عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ 'گلگت بلتستان چھوٹا سا علاقہ ہے اور اسے مقامی لوگوں کے پاس ہی رہنے دیں۔ اور اگر سی پیک کی وجہ سے لوگوں سے زمینیں لی گئی ہیں تو انھیں اس کا معاوضہ دیا جائے۔ علاقے میں جو ترقیاتی کام ہے وہ حکومت پاکستان کرے، نہ کہ کوئی دوسرا ملک آکر کرے'۔

رپورٹ کے مطابق نوجوان طبقے میں ان خلاف ورزیوں کی وجہ سے احساس محرومی پایا جاتا ہے ۔ عاصمہ جہانگیر کہ مطابق ' گلگت بلتستان کا نوجوان سوال کرتا ہے کہ گلیشیئر پاکستان کے اور ہم گلگت بلستان کے، ایسا کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’علاقے میں جو ترقیاتی کام ہے وہ حکومت پاکستان کرے، نہ کہ کوئ دوسرا ملک آکر کرے'

رپورٹ میں شامل مزید تجاویز میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے شہریوں کو پاکستانی آئین کے مطابق فوری طور پر بنیادی حقوق مہیا کیے جائیں۔ بیوروکریسی ختم کرکے مقامی سیاسی کارکنوں کو اختیارات دیے جائیں تاکہ وہ عوام کے مسائل حل کر سکیں۔

خواتین کو نہ صرف گلگت بلتستان کی اسمبلی میں شامل کیا جائے بلکہ ہر ادارے میں ان کی آواز کو یقینی بنایا جائے۔ ایسے اقدامات لیے جائیں کہ خواتین کو دفاتر میں جنسی ہراسی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ نوجوان نسل کو سیاسی اور معاشی بحث میں شامل کیا جائے اور ان کے کالج اور یونیورسٹیز کا قیام عمل میں لایا جائے۔ ذہنی امراض کے مریضوں کے لیے ہسپتال بنایا جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں