پاکستان میں خواتین کے حقوق میں کوئی بہتری نہیں: برطانوی رپورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption شائستہ پرویز ملک کے مطابق عورتوں کے حقوق پر حکومت سنجیدگی سے کام کر رہی ہے

برطانوی وزارتِ خارجہ کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس بھی پاکستان میں ’غیرت‘ کے نام پر عورتوں کے قتل اور ان پر تشدد کے واقعات میں تسلسل دیکھنے میں آیا ہے۔

حال ہی میں جاری کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2016 میں بھی پاکستانی خواتین کو تشدد سمیت مختلف سنگین مسائل کا سامنا رہا اور عورتوں کے حقوق کے حوالے سے خاطر خواہ بہتری نہیں آئی۔

رپورٹ کے مطابق عورتوں کے خلاف تشدد کے اکثر واقعات میں خاندان کے افراد ہی ملوث پائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں معروف سوشل میڈیا سٹار قندیل بلوچ کے اپنے بھائی کے ہاتھوں قتل ہونے کا ذکر بھی شامل ہے۔

برطانوی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں عورتوں کی مختلف شعبۂ زندگی خصوصاً عدلیہ اور حکومتی محکموں میں نمائندگی کا تناسب بھی کم ہے۔

عورتوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن اور ماہرِ قانون عاصمہ جہانگیر نے رپورٹ کے حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں پاکستان میں عورتوں کو متعدد مسائل کا سامنا ہے، جس میں تشدد بھی شامل ہے۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں عدالتی نظام سست روی کا شکار ہے، جرائم کے مرتکب افراد کو بروقت سزائیں نہیں دی جاتیں، اور ایسے جرائم میں کمی نہ آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔‘

عدلیہ میں عورتوں کی نمائندگی کے حوالے سے عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ روایتی طور پر شعبۂ قانون پر مردوں کی اجارہ داری رہی ہے، اور ملک میں بہت کم ایسی خاتون وکلا تھیں جو اعلیٰ عدلیہ اور دیگر عدالتوں میں باقاعدگی سے مقدمے لڑتی ہوں۔

اُن کے بقول صورتحال میں بہتری آ رہی ہے اور اب انھیں ملک بھر میں ایسی خواتین وکلا نظر آتی ہیں جو بھرپور پریکٹس کر رہی ہیں۔

عاصمہ جہانگیر کے مطابق اگرچہ پاکستان میں عورتوں کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے لیکن وہ سمجھتی ہیں کہ گذشتہ چند برسوں میں اس حوالے سے کافی بہتری آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رپورٹ میں 'غیرت کے نام پر قتل' اور ' ہندو میرج بل' جیسے قوانین کے پاس ہونے کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے

برطانوی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کی گئی اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت میں عورتوں کی نمائندگی کا تناسب بہت کم ہے۔

اس حوالے حکومتی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی رکنِ قومی اسمبلی شائستہ پرویز ملک کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر اہم فیصلہ سازی کی فورمز پر، عورتوں کی نمائندگی کا تناسب بڑھانے کے لیے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

’پنجاب میں بل پیش کیا گیا ہے جس کے مطابق تمام اہم فورمز پر عورتوں کی کم از کم 33 فیصد نمائندگی ہونی چاہیے۔اس حوالے سے وفاق میں بھی ایک بل پیش کیاجا رہا ہے، جس کے مطابق ہر جماعت انتخابات میں دس فیصد براہراست نشستوں پر عورتوں کو ٹکٹ دے گی اور اہم فیصلہ سازی میں بھی عورتوں کو شامل کیا جائے گا۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شائستہ پرویز ملک کا مزید کہنا تھاکہ عورتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی اور وفاقی سطح پر قانون سازی بھی کی گئی۔

' گھریلو تشدد، وراثت، غیرت کے نام پر قتل ، کم عمری کی شادیاں ، ان سب امور سے متعلق قانون سازی کی گئی ہے۔ اینٹی ریپ بل پر میں نے خود بہت کام کیا ہے اور پھر ہماری حکومت نے ہی اسے پارلیمان سے پاس کروایا۔'

شائستہ ملک کا کہنا تھا کہ ' ہماری حکومت کو اس بات کا ملک ادراک ہے کہ جب تک عورتوں کے حقوق کو یقینی نہیں بنایا جائے گا، ملک میں صحیح معنوں میں ترقی نہیں ہوسکتی۔'

اُن کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاست سمیت ہر شعبۂ زندگی میں عورتیں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ اگر عورتوں کے حقوق کی بات ہو تو یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے، ترقی یافتہ ممالک میں بھی عورتوں کو ناموافق حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔امریکہ میں آج تک کوئی خاتون سرابرہ مملکت منتخب نہیں ہو سکی جبکہ پاکستان کے بارے میں آپ یہ نہیں کہ سکتے۔

برطانوی وزارتِ خارجہ کی رپورٹ پر جہاں پاکستان میں عورتوں کے حقوق کے حوالے سے تشویش کے اظہار کیا گیا ہے، وہاں ’غیرت کے نام پر قتل‘ اور ’ہندو میرج بل‘ جیسے قوانین کے پاس ہونے کو خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔