بسنت پالا اڑنت!

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کل کسی نے چانڈو خانے کی اڑائی کہ پاکستان میں اب بہار نہیں آئے گی، بلکہ سیدھے سیدھے موسمِ گرما شروع ہو جائے گا۔ پہلے تو یقین نہ آیا پھر جب غور کیا تو کچھ کچھ یقین آنے لگا۔ مجھے یاد آیا کہ جب پہلی بار یہ معلوم ہوا تھا کہ اب بہار تو آئے گی مگر بسنت نہیں منائی جائے گی تو لگا تھا، یہ سفید جھوٹ ہے۔ بھلا یہ بھی ممکن تھا کہ بہار آئے اور بسنت کا تہوار نہ منایا جائے؟ لیکن یہ بھی ہو گیا، اب کسی بھی ہونی پہ حیرت کیسی؟

روایت ہے کہ جناب نظام الدین اولیا کسی وجہ سے ملول اور دکھی تھے۔ امیر خسرو ان کو خوش کرنے کی سبیل ڈھونڈھ رہے تھے۔ اس دوران ان کو کچھ کسان نظر آئے جو بسنت کا تہوار منانے جا رہے تھے۔ امیر خسرو نے بھی ان کی دیکھا دیکھی پگڑی میں سرسوں کے پیلے پھول اڑسے اور گاتے ہوئے جناب محبوب الہیٰ کے آستانے کا رخ کیا۔ اس وقت جو گیت انھوں نے گایا وہ 'رنگ' کہلاتا ہے۔

’آج رنگ ہے ری ماں رنگ ہے ری

میرے محبوب کے گھر رنگ ہے ری‘

سنا ہے کہ جناب محبوب الہیٰ کا مزاج بہتر ہوا اور اس کے بعد سے بسنت کا تہوار باقاعدگی سے منا یا جانے لگا۔ بسنت، موسمِ بہار کو کہا جاتا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے بیشتر علاقوں میں فروری کے وسط سے موسم بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔ جن درختوں کے پتے زرد پڑ چکے ہوتے ہیں وہ جنوری، فروری کی ہواؤں سے گر جاتے ہیں ۔ دھوپ میں ہلکی سی تندی آنے لگتی ہے، درختوں کی شاخیں جو سردی سے سیاہ پڑچکی ہوتی ہیں، نئی کونپلوں کے پھوٹنے سے پھر سے سر سبز ہونے لگتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بسنت پر پابندی سے قبل اس تہوار کو بہت دھوم دھام سے منایا جاتا تھا

ان ہی دنوں سرسوں کی فصل بھی تیار ہو کر پکنے کے قریب ہوتی ہے، کھیتوں میں زردپھولوں میں سبز پھلیاں جھانکتی ہیں اور شہد کی مکھیوں کے غول کے غول منڈلایا کرتے ہیں، سائیبیریا سے آئے پرندے، اندھیرے سویرے، لمبی لمبی ڈاروں میں فوجی جہازوں کی سی ٹکڑیاں بنائے، اپنے دیس لوٹنے کی اڑان بھر رہے ہوتے ہیں۔ گندم کے ہرے کھیت، سبز قالینوں کی طرح حدِ نظر تک بچھے ہوتے ہیں۔

شہروں میں مالی نوع بنوع کے پھول بوتے ہیں جو اس موسم میں تیار ہوتے ہیں۔ فراغت کی نعمت سے مالا مال خواتین، باغبانی کے مقابلے کرتی ہیں، پارکوں میں میلے سجتے ہیں اور پھولوں کی

نمائش ہوتی ہے۔ سب ہوتا ہے، مگر آسمان پہ اس موسم میں بھی چیلیں اڑتی ہیں اور کوے نحوست پھیلاتے ہیں۔

بسنت کا تہوار، جو اب ہمارے ہاں پتنگیں اڑانے کے تہوار کے طور پر منایا جاتا تھا، کئی سال سے بحکمِ سرکار بند ہے، اور کیوں نہ ہو؟ بدلتے موسم کا یہ تہوار، موت کا تہوار بن چکا تھا۔

بسنت کی زیادہ دھوم، لاہور، گوجرانوالہ اور پنڈی میں مچتی تھی۔ اصل گڑھ لاہور تھا، جہاں بانس کی نازک کانپوں پر، باریک رنگین کاغذ چڑھا کر پتنگیں بنائی جاتی تھیں۔ ان کانپوں کا ایک توازن ہوتا ہے، اگر ذرا بھی کان آجائے تو پتنگ یا تو اڑ نہیں سکتی یا، زیادہ اونچی نہیں جاتی۔ پتنگ کوجس ڈور کے سہارے اڑایا جاتا تھا وہ عام دھاگا ہی ہوتا تھا۔ اسے ڈور کی شکل دینے کے لئے اس پہ 'مانجھا ' لگایا جاتا تھا جو غالباً پسے ہوئے کانچ کو ململ میں سے چھان کر لئی اور رنگ میں ملا کر بنایا گیا مصالحہ ہوتا ہے۔

ڈور کو مانجھا دینے سے اس میں کاٹ پیدا ہو جاتی ہے اور وہ پیچالڑاتے ہوئے، مخالف کی ڈور کو کاٹ کر اس کی پتنگ کو، 'چڑھی ہوئی گڈی' سے ' کٹی پتنگ 'میں تبدیل کر دیتی تھی۔ اب ظاہر ہے یہ فرق کوئی معمولی فرق نہیں۔کجا ’چڑھی ہوئی گڈی، کجا' کٹی پتنگ؟ اس بات پر ہم لاہوری کچھ پاگل سے ہوگئے۔ پہلے تو مانجھا دینے میں عجیب عجیب جدتیں پیدا کی گئیں۔ ڈور کو ایسا تیغ طمنچہ کر لیا گیا کہ پتنگ بازوں کی انگلیاں، قاش قاش ہو نے لگیں۔ جس کا علاج ٹیپ لپیٹ کر کیا جانے لگا۔ پتنگ کاٹنے اور لوٹنے کے جھگڑے، ہوائی فائرنگ وغیرہ تو ظاہر ہے چل ہی رہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بسنت پر پابندی پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے پولیس مختلف علاقوں میں نگرانی کرتی ہے

مانجھا دینے کی اس دوڑ میں مچھلی پکڑنے کی ڈور بھی کہیں سے آگئی۔ نائیلون کی یہ مہین ڈوری ٹوٹتی نہیں ، کھنچتی اور مہین سے مہین تر ہو کر، مہلک ترین ہوتی جاتی ہے۔ اسی ڈور کے پھرنے سے کئی موٹر سائیکل سواروں کے گلے کٹے۔ اس ڈوری کے ساتھ ساتھ، روایتی مانجھے کی جگہ کیمیکلز نے لے لی۔ ڈور تو مومن کی تیغ سے بھی تیز ہو گئی،لیکن پتنگ کے ساتھ ساتھ انسانوں کے گلے بھی کاٹنے لگی۔

یوں بھی بسنت کے بارے میں لوگوں کا خیال یہ تھا کہ ہندوانہ تہوار ہے۔ موسم بدلتا ہے، بدلتا رہے یہ بسنت نہ ہی آئے تو بہتر۔ مزید اہتمام پتنگ بازوں نے خود ہی کر دیا۔ اب موسم تو بدلتا ہے ، مگر بسنت نہیں آتی، سرسوں پھولتی ہے مگر، اس کے زرد رنگ میں ایک آنچ کی کسر رہ جاتی ہے۔ پتنگ بازی کا قدیمی تہوار، اسی کے کھلاڑیوں کے ہاتھوں ختم ہوا۔ سب کی پتنگیں کٹ گئیں اور اب ویران آسمان کو دیکھیں تو کسی کی بھی ’گڈی چڑھی‘ نظر نہیں آتی۔

متعلقہ عنوانات