مہمند: ’سرحد پار سے حملہ، پانچ فوجی، دس شدت پسند ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستانی فوج کے مطابق افغان سرحد سے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں تین چوکیوں پر ہونے والے حملے میں چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ فورسز کی جوابی کارروائی میں دس سے زیادہ شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف ’رد الفساد‘ کے نام سے نیا آپریشن

٭آپریشن اور رینجرز کی تعیناتی: ’فیصلہ وزیراعظم ہاؤس میں ہوا‘

فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے پیر کی صبح جاری ہونے والے بیان کہا گیا ہے کہ ’ گذشتہ شب سرحد پار سے شدت پسندوں نے مہمند ایجنسی میں پاکستان کی تین چوکیوں پر حملہ کیا۔ جوابی کارروائی میں اس حملے کو ناکام بنا دیا گیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں چھ پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ اطلاعات کے مطابق 10 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔‘

گذشتہ ماہ بھی شدت پسندوں نے ایجنسی کے ہیڈکواٹر کو خود کش حملے میں نشانہ بنایا تھا اس سے قبل ایک سرکاری سکول کو بھی بم دھماکے سے اڑایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اس ایجنسی میں امن کمیٹیوں کے ممبران کو بھی نشانہ بنانے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستانی فوج کی جوابی کارروائی کو سراہا ہے۔

انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک کی سرحد پر افغان جانب سے سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی ہونی چاہیے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پاکستانی دفترِ خارجہ نے مہمند ایجنسی میں فوجی چوکیوں پر حملے کے بعد افغان نائب سفیر عبدالناصر کو دفترِ خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا گیا اور انھیں ایک احتجاجی مراسلہ بھی دیا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ 'چونکہ شدت پسندوں نے افغانستان سے آکر حملہ کیا ہے اس لیے ان کا سدِ باب کرنا افغان حکومت کی ذمہ داری ہے۔'

خیال رہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں تیزی کے بعد پاکستانی حکومت نے افغانستان اور پاکستان کی سرحد غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی ہے۔ پاک افغان سرحد خیبر ایجنسی میں طورخم کے مقام پر، جنوبی وزیرستان میں انگور اڈا، اور بلوچستان میں چمن کے مقام پر بند کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاک افغان سرحد طورخم ، انگور اڈا اور چمن کے مقام پر بند کی گئی ہے

حکومتِ پاکستان کا موقف ہے کہ حالیہ حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے اور سہولت کار افغانستان کے راستے پاکستان آئے تھے۔

تاہم پاکستان میں تعینات افغان سفیر عمر ذخیلوال نے سنیچر کو اپنے پیغام میں کہا تھا کہ اگر آئندہ چند روز میں سرحد نہ کھولی گئی تو وہ اپنی حکومت کو تجویز دیں گے کہ پاکستان میں پھنسے 25000 افغان شہریوں کو فضائی راستے سے وطن واپس لے جایا جائے۔

اسی بارے میں