آپریشن ردالفساد:صوابی میں کارروائی کے دوران دو فوجی، پانچ شدت پسند ہلاک

پاکستانی فوج تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI/AFP/Getty Images
Image caption پاکستان میں شدت پسندی کی تازہ لہر کے بعد پاکستانی فوج نے 22 فروری کو ملک بھر میں آپریشن رد الفساد کا آغاز کیا ہے

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ خیبرپختوخوا کے علاقے صوابی میں ایک کارروائی کے دوران شدت پسندوں سے فائرنگ کے تبادلے میں ایک کپتان سیمت دو فوجی اور پانچ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

منگل کی صبح فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا ہے کہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر یہ کارروائی صوابی کے علاقے ملک آباد میں کی گئی۔

٭آپریشن 'ردالفساد' جاری، چاروں صوبوں میں چھاپے، گرفتاریاں

٭آپریشن رد الفساد: ’نہ رنگ دیکھیں گے نہ فرقہ‘

بیان کے مطابق کارروائی میں ایک کمپاؤنڈ کا محاصرہ کیا گیا اور اس دوران شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں کیپٹن جنید اور سپاہی امجد ہلاک ہو گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن رد الفساد کے تحت کی جانے والی اس کارروائی میں پانچ شدت پسندوں کو بھی ہلاک کیا گیا ہے۔

گذشتہ روز بھی پاکستانی فوج نے مہمند ایجنسی کے علاقے میں افغان سرحد عبور کر کے آنے والے شدت پسندوں سے جھڑپ میں چھ فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

اس کارروائی میں فوج نے دس سے زیادہ شدت پسندوں کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں شدت پسندی کی تازہ لہر کے بعد پاکستانی فوج نے 22 فروری کو ملک بھر میں آپریشن رد الفساد کا آغاز کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آپریشن رد الفساد کے دوران سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا اور چند کو میڈیا کے سامنے بھی پیش کیا گیا

اس سکیورٹی آپریشن کے تحت ملک کے چاروں صوبوں میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں اور سرچ آپریشن کیے جا رہے ہیں جن کے دوران سینکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا جا چکا ہے۔

اس آپریشن کے آغاز سے قبل پاکستان اور افغانستان کی سرحد بھی بند کر دی گئی تھی جسے آج سے دو دن کے لیے کھولا گیا ہے۔

پیر کو وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ افغان شہری جو ویزا حاصل کرنے کے بعد پاکستان میں داخل ہوئے تھے اور اب واپس جانا چاہتے ہیں ان کی سہولت کے لیے سات اور آٹھ مارچ کو طورخم اور چمن کے مقامات پر سرحدی راستہ کھول دیا جائے گا۔

اسی بارے میں