پاک افغان سرحد عبور کرنے کے لیے’ہزاروں افراد جمع‘

افغان سرحد
Image caption پیدل سرحد عبور کرنے والے افراد کی بھی بڑی تعداد سرحد پر پہنچی ہے

پاکستان اور افغانستان کی سرحد 18 دن کی بندش کے بعد پیر کو دو دن کے لیے کھول دی گئی ہے اور اس موقع پر وہاں سرحد پار کرنے کے لیے بہت بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے ہیں۔

سرحد پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پاکستان سے افغانستان جانے کے خواہشمند افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے جن میں مرد، خواتین اور بچے سبھی شامل ہیں۔

’سرحد نہ کھولی تو شہریوں کو ایئر لفٹ کریں گے‘

پاک افغان سرحد کو دو روز کے لیے کھولنے کا اعلان

یہ افراد پیدل اور گاڑیوں کے ذریعے سرحد عبور کر رہے ہیں جبکہ نامہ نگار کے مطابق افغانستان کی جانب بھی سرحد پر گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھی جا سکتی ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق سرحد کی بندش کی وجہ سے سرحد کی دونوں جانب تازہ میووں اور سبزی سمیت دیگر اشیا سے بھرے تقریباً پانچ ہزار کنٹینرز سرحد پار کرنے کے منتظر ہیں۔

پاکستان نے ملک میں شدت پسندی کی تازہ لہر میں 100 سے زیادہ ہلاکتوں کے بعد 16 فروری کو افغانستان سے متصل اپنی سرحد غیرمعینہ مدت کے لیے بند کر دی تھی۔

Image caption پاکستان سے افغانستان جانے کے خواہشمند افراد میں مرد، خواتین اور بچے سبھی شامل ہیں

یہ سرحد خیبر ایجنسی میں طورخم کے مقام پر، جنوبی وزیرستان میں انگور اڈا، اور بلوچستان میں چمن کے مقام پر بند کی گئی تھی۔

پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث شدت پسند سرحد پار افغان علاقے میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

سرحد کی اچانک بندش کی وجہ سے دونوں جانب ہزاروں افراد پھنس گئِے تھے اور انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر سرحد کھولنے کے مطالبات سامنے آئے تھے۔

پانچ مارچ کو پاکستان میں افغان سفیر عمر زخیلوال نے کہا تھا کہ سرحد کی بندش کی وجہ سے 25 ہزار افغان باشندے پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں اور اگر آئندہ چند روز میں سرحد نہ کھولی گئی تو وہ اپنی حکومت کو تجویز دیں گے کہ ان شہریوں کو فضائی راستے سے وطن واپس لے جایا جائے۔

Image caption سرحد کی اچانک بندش کی وجہ سے دونوں جانب ہزاروں افراد پھنس گئِے تھے

تاہم ان کے اس بیان کے بعد پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے دو دن کے لیے سرحد کھولنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا وہ افغان شہری جو ویزا حاصل کرنے کے بعد پاکستان میں داخل ہوئے تھے اور اب واپس جانا چاہتے ہیں ان کی سہولت کے لیے سات اور آٹھ مارچ کو طورخم اور چمن کے مقامات پر سرحدی راستہ کھول دیا جائے گا۔

وزارت خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ سرحدی راستے ان پاکستانی شہریوں کے لیے بھی دو دن کھلے رہیں گے جو افغانستان کا ویزا حاصل کرنے کے بعد وہاں گئے اور اب واپس پاکستان آنا چاہتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں