پاکستانی شعبۂ صحافت میں ’آپ مسکرا دیں تو بھی غلط، نہ مسکرائیں تب بھی غلط‘

پاکستان
Image caption اسلام آباد میں اکستان کی صحافتی انڈسٹری میں خواتین کی ہراسگی کے موضوع پر مباحثہ ہوا

’پاکستان میں خاتون صحافی ہرروز ایک پل صراط سے گزرتی ہے‘۔ یہ الفاظ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی صحافی فہمیدہ بٹ کے ہیں جو 1991 سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خیبر پختونخوا میں فیلڈ رپورٹنگ کرنے والی پہلی خاتون صحافی ہیں۔

’پچیس سال کے اس سفر میں گھر کی چوکھٹ سے ہراسگی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور آج تک کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے، آپ مسکرا دیں تو آپ غلط ہیں، آپ نہ مسکرائیں تب بھی آپ غلط ہیں۔‘

خواتین پر تشدد روکنے کے لیے موبائل ایپ متعارف

سندھ اسمبلی: پیپلز پارٹی کے وزیر کی خاتون رکن سے معافی

پاکستان کی صحافتی انڈسٹری میں خواتین کو ہراساں کیے جانے کے موضوع پر اقوام متحدہ اور پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن کے زیر اہتمام منگل کو دارالحکومت اسلام آباد میں ایک مباحثے کا اہتمام کیا گیا۔

مباحثے میں پاکستان میں کام کرنے والے ملکی اور غیر ملکی خبر رساں اداروں کی خواتین صحافیوں نے بقول ’اس شعبے میں سرایت پذیر غیرمساوی رویوں، ناانصافیوں، اور عدم تحفظ جیسے مسائل‘ اور ان کے حل کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔

پاکستان میں ورکنگ وومن کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی معروف سماجی شخصیت ملیحہ حسین نے اس دوران بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اکثر میڈیا ہاؤسز میں ایسی شکایتوں سے نمٹنے اور تحقیقات کے لیے کمیٹیاں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ ’جو کمیٹیاں ہیں ان میں اکثریت نااہل افراد کی ہے جنہیں خود اس قانون اور تحقیقات کے طریقہ کار سے متعلق تربیت کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اب ہراساں کرنے کے کیسز میں بھی سیاسی شخصیات کی مداخلت بہت بڑھ گئی ہے۔

’گذشتہ روز سندھ میں صوبائی محتسب کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، کیونکہ وہ آئندہ دو روز میں ایک بڑے کیس پر فیصلہ سنانے والے تھے، ایسے حالات میں آپ کس طرح خواتین کو تخفظ کا احساس دلا سکتے ہیں؟‘

Image caption خیبرپختونخواہ سے تعلق رکھنے والی صحافی فہمیدہ بٹ

واضح رہے کہ کام کی جگہ پر ہراساں کیے جانے کے خلاف خواتین کے تحفظ کے قانون 2010 کے تحت پاکستان کے تمام ادارے قانونی طور پر پابند ہیں کہ وہ تین رکنی داخلی کمیٹیاں تشکیل دیں۔ اس قانون میں نہ صرف سزائیں واضح طور پر درج ہیں بلکہ تحقیقات کا طریقہ کار بھی بتایا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وفاقی اور صوبائی محتسب کے پاس آنے والی بیشتر اپیلیں وہ ہیں جنہیں داخلی تحقیقاتی کمیٹیوں سے انصاف نہیں مل سکا۔

مباحثے کے شرکا نے کہا کہ میڈیا ہاؤسز میں بنی تحقیقاتی کمیٹیاں اپنے ادارے کے بااثر اور بااختیار افراد کے خلاف سرے سے فیصلہ ہی نہیں کرتیں، یا ان میں بیٹھے ’ممبران کو اس قانون اور اس مسئلے کی حساسیت کا ادراک ہی نہیں ہے۔‘

وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے اس نقطے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نہ صرف کمیٹی کے ممبران کی تربیت کے لیے کام کا آغاز کر رہے ہیں، بلکہ معاشرے میں ان خواتین کا ساتھ دینے کے لیے ایک آگاہی مہم شروع کر رہے ہیں جو ہراس کے خلاف لڑ رہی ہیں۔‘

مباحثے میں شریک خواتین صحافیوں نے روزمرہ رپورٹنگ، نیوز رومز میں غیرمساوی سلوک، جنسی فائدہ نہ دینے پر اہم کوریج سے دور رکھنا، پروگرام نہ دینا یا ان کے اوقات کار تبدیل کر دینا، جیسے مسائل کو اجاگر کیا۔

بعض شرکا کا کہنا تھا کہ عام طور پر جب کوئی خاتون ہراساں کیے جانے کے خلاف شکایت داخل کرتی ہے تو اس کی ساتھی خواتین بھی اس سے دوری اختیار کر لیتی ہیں۔ جبکہ کردار کشی کو خاتون کے خلاف ایک آسان اور موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

صحافی تنزیلہ مظہر نے بتایا کہ صحافت سے وابستہ خواتین کو یہ بھی سننا پڑتا ہے کہ عورت ہونے کی وجہ سے انہیں اہم خبریں، انٹرویوز اور اہم عہدے مل رہے ہیں۔ ’یہ تاثر ہماری کامیابی کی حیثیت کم کرتا ہے۔‘

واضح رہے کہ تنزیلہ مظہر نے حال ہی میں سرکاری نشریاتی ادارے پاکستان ٹیلی ویژن میں اعلیٰ عہدیدار کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے کی شکایت کا اندراج کیا تھا، تاہم ان کی یہ اپیل شہادتیں نہ ہونے کے باعث خارج کر دی گئی تھی جس کے بعد وہ ادارے سے مستعفی ہوگیئں۔

تاہم ان کا کیس سوشل میڈیا پر کئی دن زیر بحث رہا جس میں متعلقہ تحقیقاتی کمیٹی کو اس کے سوالات کی وجہ سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ’ایسے کیسز فائل کرنا آسان نہیں۔ مجھ پر معاشرے اور خاص طور پر اہلخانہ کا شدید دباؤ تھا۔ جو خواتین ہراساں کرنے والوں کے خلاف کھڑی ہو جائیں ان کو یہ جنگ تنہا لڑنا پڑتی ہے۔‘

وزیر اعظم پاکستان کے ترجمان مصدق ملک کا کہنا تھا کہ ہراساں کیا جانا پیشہ ورانہ اداروں میں خواتین کے داخلے کی راہ میں ایک سنجیدہ رکاوٹ بن رہی ہے۔ ’یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ہم قوانین کے نفاذ کے معاملے میں درست سمت میں جا رہے ہیں۔‘

تاہم سینیئر صحافی فہمیدہ بٹ کو کسی بھی تبدیلی کی امید نہیں۔ ’میں ِخود ایک صحافی ہوں، مگر آج حالات دیکھ کر یہ تہیہ کیے بیٹھی ہوں کہ میں اپنی بیٹی کو صحافت کا شعبہ اختیار نہیں کرنے دوں گی۔‘

اسی بارے میں