صوابی سے دس مبینہ شدت پسندوں کی لاشیں برآمد

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے شہر صوابی میں حکام کا کہنا ہے کہ انھیں شہر کے مضافات سے دس مبینہ شدت پسندوں کی لاشیں ملی ہیں جنھیں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ لاشیں بدھ کی صبح شہر سے تقریباً بارہ کلومیٹر دور باجا کے علاقے سے ملیں۔

آپریشن رد الفساد: ’نہ رنگ دیکھیں گے نہ فرقہ‘

صوابی کے ضلعی پولیس سربراہ صہیب اشرف نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز کے دستے خفیہ معلومات کے تحت سرچ آپریشن کر رہے تھے کہ اس دوران ان کا دہشت گردوں سے آمنا سامنا ہوا۔

انھوں نے کہا کہ اس جھڑپ کے دوران دس شدت پسند مارے گئے۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں مزید معلومات فوج کا شعبۂ تعلقات عامہ ہی جاری کرے گا۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ مرنے والے شدت پسندوں کی لاشیں مقامی ہسپتال پہنچا دی گئی ہیں جہاں ان کا شناخت کا عمل جاری ہے تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مرنے والے مبینہ شدت پسندوں کا تعلق کس گروپ سے ہے۔

گذشتہ روز بھی صوابی میں ہی فوج کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے دوران ایک کیپٹن سمیت دو اہلکار ہلاک ہو گئے تھے جبکہ جوابی حملے میں پانچ شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعوی کیا گیا تھا۔

اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے قبول کرنے کا دعوی کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں شدت پسندی کی تازہ لہر کے بعد پاکستانی فوج نے 22 فروری سے ملک بھر میں آپریشن رد الفساد کا آغاز کیا ہے۔

اس سکیورٹی آپریشن کے تحت ملک کے چاروں صوبوں میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں اور سرچ آپریشن کیے جا رہے ہیں جن کے دوران سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

اس آپریشن کے آغاز سے قبل پاکستان اور افغانستان کی سرحد بھی بند کر دی گئی تھی جسے دو دن کے لیے کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں