پاک افغان سرحد سے دوسرے روز 11 ہزار سے زائد افغان اور 350 پاکستانی وطن واپس

Image caption اطلاعات ہیں کہ آج سرحد رات آٹھ بجے کی بجائے ساڑھے دس بجے تک کھلی رہے گی تاکہ جو لوگ رہ گئے ہیں وہ واپس افغانستان جا سکیں

پاک افغان سرحد پر بدھ کو دوسرے روز بھی بھگدڑ سے ایک شحص ہلاک ہو گیا جبکہ سہ پہر تک ساڑھے گیارہ ہزار افراد افغانستان واپس چلے گئے ہیں۔ اس دوران ساڑھے تین سو پاکستانی افغانستان سے واپس وطن پہنچے ہیں۔

سرحد پر تعینات پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکاروں نے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ سرحد پر ہجوم کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی تھی جس سے جلال آباد کے ایک رہایشی منگل خان ہلاک ہو گئے ہیں۔ دو روز میں ایک خاتون سمیت دو افراد سرحد پر ہلاک ہو چکے ہیں۔

* پاک افغان سرحد عبور کرنے کے لیے’ہزاروں افراد جمع‘

طور خم کے مقام پر سرحد پر آج بھی بڑی تعداد میں لوگ پہنچے تھے جن میں خواتین بچے اور بزرگ افراد شامل تھے۔ ان میں بیشتر ایسے افغان تھے جو علاج کے لیے پاکستان آئے تھے۔

افغان جانے والی ایک خاتون ڈاکٹر عروج رانا یوسفزئی نے بتایا کہ سرحد کی بندش کی وجہ سے انھوں نے یہ انیس دن سخت مشکل میں گزارے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں زیادہ مشکل خواتین اور بچوں کو پیش آ رہی ہیں اس لیے سرحد پر یہ سختی دونوں ممالک کی حکومتوں اور عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس ساری صورتحال میں یہی ذہن میں آتا ہے کہ دو ہاتھیوں کی لڑائی میں دونوں ملکوں کی عوام پس رہی ہے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ آج سرحد رات آٹھ بجے کی بجائے ساڑھے دس بجے تک کھلی رہے گی تاکہ جو لوگ رہ گئے ہیں وہ واپس افغانستان جا سکیں۔

گذشتہ روز کی نسبت آج واپسی کا عمل قدرے منظم طریقے سے جاری رہا اور حکام کی کوشش رہی کہ واپسی کا عمل جلد مکمل کیا جا سکے ۔ آج ایف سی اور دیگر اہلکاروں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے اور ایف سی کی خاتون اہلکار بھی موجود تھیں جو واپس جانے والی خواتین کی مدد کرتی رہیں ۔

Image caption منگل کو صرف پیدل جانے والے افراد کی لیے کھولی گئی تھی، گاڑیوں اور ٹرکوں کے لیے سرحد اب بھی بند ہے

منگل کو ایک خاتون کی ہلاکت کے بعد سرحد پر حکام نے واپسی کا عمل تیز کر دیا تھا اور ایسی اطلاعات ہیں کہ چند گھنٹوں میں بیشتر افراد کو وطن واپس جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ کل شام تک قریباً تین ہزار افراد کو کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد افغانستان جانے کی اجازت دی گیی تھی لیکن رات دیر سے ایسی اطلاعات موصول ہوئیں کے واپس جانے والے افراد کی تعداد ساڑھے بارہ ہزار تھی۔

سرحد پر قطاروں میں کھڑے افغان شہری مختلف کاموں سے پاکستان آئے تھے کوئی رشتہ داروں سے ملنے تو کسی نے علاج کرانا تھا اور کوئی روزگار کی تلاش میں پاکستان پہنچا تھا۔ ایسے ہی کچھ نوجوانوں نے بتایا کہ وہ یہاں تنگ ہو کر واپس افغانستان جا رہے ہیں۔

پاک افغان سرحد انیس روز کی بندش کے بعد منگل کو صرف پیدل جانے والے افراد کی لیے کھولی گئی تھی، گاڑیوں اور ٹرکوں کے لیے سرحد اب بھی بند ہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ سرحد پر سامان سے لدی دو سو گاڑیاں کھڑی ہیں جبکہ خیبر ایجنسی اور ادھر پشاور میں کھڑی گاڑیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ سرحد کی بندش سے دونوں جانب تجارت پر برے اثرات پڑ رہے ہیں۔

پاک افغان سرحد سولہ فروری کو ہر قسم کی آمدو رفت کے لیے بند کر دی گئی تھی اور اس کی ایک وجہ لاہور سہون اور پشاور میں دھماکے بتائے جاتے ہیں ۔

پاک افغان سرحد کو کچھ عرصہ پہلے تک روزانہ آٹھ سے دس ہزار افراد دونوں جانب سے عبور کرتے تھے لیکن جب پاسپورٹ اور ویزے کی شرط عائد کی گئی تو اس کے بعد یہ آمدو رفت کم ہو کر پندرہ سو تک رہ گئی تھی ۔

اسی بارے میں