’اب آخر میں سب کچھ خراب ہو رہا ہے‘

افغان سرحد

پاک افغان سرحد پر منگل کو ایک افغان خاتون دم توڑ گئیں جبکہ بیشتر بیمار افراد سرحد پر لاٹھی کے سہارے کی تلاش میں رہے تاکہ انھیں دو فرلانگ کا فاصلہ پیدل کرنے میں مدد مل سکے۔

احمد اللہ کی زوجہ نور ضیا منگل کو سفری کاغذات کے ساتھ افغانستان جا رہی تھی کہ سرحد کے قریب بھگدڑ مچنے سے وہ گر گئیں اور پھر سنبھل نہ سکیں۔

18 دن کی بندش کے بعد سینکڑوں افراد پاک افغان سرحد پار کرنے میں کامیاب

پاک افغان سرحد عبور کرنے کے لیے’ہزاروں افراد جمع‘

حکام کے مظابق نور ضیا افغانستان کے علاقے پروان کی رہنے والی تھیں لیکن سرحد پر دم توڑ گئیں جس کے بعد ان کی میت ان کے رشتہ دار ایک ایمبولینس میں ڈال کر افغانستان لے گئے۔

سرحد پر صرف نور ضیا ہی بیمار نہیں تھیں بلکہ سینکڑوں افراد ایسے تھے جو علاج کے لیے پشاور آئے تھے لیکن سرحد کی بندش کی وجہ سے یہاں پھنس گئے تھے۔ کسی نے گردے کا آپریشن کروا رکھا تھا تو کوئی سر پر پٹیاں باندھے کھڑا تھا۔

ذبیح اللہ کی عمر 30 سال ہے اور وہ لمبی قطار میں کھڑے اپنی باری آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ علاج کے لیے پشاور آئے تھے۔

ذبیح اللہ نے کہا کہ انھوں نے ڈاکٹر سے معائنہ کروانے کے بعد ادویات خریدی تھیں اور واپسی کے لیے تیار تھے کہ سرحد بند ہو گئی، اب صبح سے یہاں کھڑے ہیں کبھی خاصہ دار ایک طرف دھکا دیتے ہیں تو کبھی ملیشیا کے اہلکار دوسری جانب کھینچتے ہیں۔

طورخم سرحد پر جہاں واپس جانے والے افراد کے پاسپورٹ اور کاغذات کی جانچ پڑتال کی جا رہی تھی وہاں سے دو فرلانگ تک واپس جانے والے افراد کی قطاریں بھی تھیں۔ سکیورٹی پر تعینات اہلکار انھیں قطار میں کھڑے رہنے کی بار بار تلقین کرتے رہے۔

ایک بزرگ لمبی قطار میں کافی دیر تک کھڑے رہنے کے بعد بیٹھ گئے تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ مزید کھڑے رہنے کی سکت نہیں رکھتے، ہڈیوں میں دم نہیں رہا اس لیے بیٹھ گیا تھا۔

ایک فارسی بولنے والے بزرگ ہتھ ریڑھی میں اپنے جوان بیٹے کو لے جا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا جوان بیٹا بیمار ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کے کاغذات کی جانچ پڑتال جلد ہو جائے تاکہ وہ اپنے وطن واپس جا سکیں۔

سرحد پر ایک کونے میں بیٹھی خواتین روتے بچوں کو خاموش کراتی رہیں اور ہر اس شخص کو بڑی امید بھری نظروں سے دیکھتیں جن پر انھیں یہ توقع ہوتی کہ وہ ان کی کوئی مدد کر سکتے ہیں۔

امیگریشن سے فارغ ہو کر واپس جانے والے ایک افغان حاجی شاہ ولی نے بتایا کہ وہ مجبوری کے تحت یہاں آئے تھے۔

حاجی شاہ ولی نے کہا کہ ایک طرف قندوز کے حالات خراب ہیں دوسری جانب افغان حکومت مشکلات کا شکار ہے۔ وہ کیا کریں 40 سال تک پاکستان کے لوگوں نے ہمارے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا لیکن اب آخر میں سب کچھ خراب ہو رہا ہے۔

افغان شہریوں نے پاکستان آنے کی مختلف وجوہات بتائیں۔ ایک بچی کا پشاور میں برین ٹیومر کا علاج ہو رہا تھا لیکن ان کے بھائی انھیں اس لیے واپس لے گئے کیونکہ انھیں یہ خدشہ تھا کہ اگر سرحد پھر سے بند ہو گئی تو وہ واپس کیسے جائیں گے۔

پاک افغان سرحد پر کچھ عرصہ پہلے تک دونوں جانب سے روزانہ آٹھ سے دس ہزار افراد سرحد عبور کرتے تھے لیکن جب پاسپورٹ اور ویزے کی شرط عائد کی گئیں تو اس کے بعد یہ آمد و رفت کم ہو کر 1500 تک رہ گئی۔

ایک اندازے کے مطابق سرحد کی بندش سے 25 ہزار افراد پاکستان میں پھنس گئے تھے اور اب انھیں واپسی کے لیے صرف دو روز دیے گئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر ایک دن میں پانچ ہزار افراد کے کاغذات کو جانچ پڑتال کے بعد واپسی کی اجازت دی جائے تو دو دن میں صرف دس ہزار افراد ہی واپس جا سکیں گے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی واپسی کے لیے زیادہ وقت درکار ہو گا۔

اسی بارے میں