سپریم کورٹ کے متنازع چیف جسٹس سجاد علی شاہ کا انتقال

سجاد علی شاہ
Image caption سجاد علی شاہ سپریم کورٹ کے 13ویں چیف جسٹس تھے

پاکستان کی عدالتی تاریخ میں اپنے فیصلوں کے باعث ایک متنازع جج سمجھے جانے والے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کراچی میں انتقال کر گئے۔

سجاد علی شاہ گذشتہ کچھ روز سے علیل تھے اور ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے جہاں منگل کی شب وہ چل بسے۔

بدھ کی صبح ڈیفینس کی امام بارگاہ میں ان کی نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد سپر ہائی وے پر واقع وادی حسین قبرستان میں ان کی تدفین کر دی گئی۔

سجاد علی شاہ سپریم کورٹ کے 13ویں چیف جسٹس تھے۔ ان کی پیدائش 1933 میں کراچی میں ہوئی تاہم ان کا آبائی علاقہ نواب شاہ تھا۔

انھوں نے جامعۂ کراچی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ انھیں 1989 میں سندھ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا گیا اور تقریباً ایک سال کے بعد انھیں ترقی دے کر سپریم کورٹ بھیج دیا گیا تھا۔

سابق صدر غلام اسحاق خان نے جب 1993 میں میاں نواز شریف کی حکومت کو آٹھویں ترمیم کے تحت برطرف کیا تو سپریم کورٹ نے اس فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کی اور حکومت کو بحال کردیا۔ 11 رکنی بینچ میں سجاد علی شاہ واحد جج تھے جنھوں نے حکومت کی بحالی کی مخالفت کی تھی۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس وقت کی وزیر اعظم بےنظیر بھٹو نے سجاد علی شاہ کی تعیناتی کی منظوری دی جس کے بعد ان پر یہ الزام لگا کہ دو سینیئر ججز کی موجودگی کے باوجود وزیراعظم نے اپنی مرضی کا چیف جسٹس تعینات کیا۔

تاہم جب صدر پاکستان فاروق لغاری نے بےنظیر بھٹو کی حکومت کو بدانتظامی اور بدعنوانی کے الزامات پر برطرف کیا تو اس وقت چیف جسٹس سجاد علی شاہ اس چھ رکنی بینچ کے سربراہ تھے جس نے ان الزامات کو درست قرار دیتے ہوئے برطرفی کا فیصلہ برقرار رکھا۔

سنہ 1997 میں جب سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کے دوران مسلم لیگ کارکنوں نے عدالت پر دھاوا بولا تو اس وقت بھی سجاد علی شاہ ہی چیف جسٹس تھے، اور فریقین میں اختلافات کی ایک وجہ چیف جسٹس کی خواہش کے برعکس خصوصی عدالتوں کا قیام بھی بنا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sajjad Ali Shah

1997 میں میاں نواز شریف کے دور حکومت میں جب پاکستان کے آئین میں 13ویں آئینی ترمیم کر کے صدر مملکت سے قومی اسمبلی کی برطرفی کے اختیارات چھین لیے گئے تو سپریم کورٹ نے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں ان اختیارات کو بحال کیا تھا۔

تاہم اسی دن ایک دوسرے بینچ نے جسٹس سعید الزمان صدیقی کی سربراہی میں نے ان اختیارات کو معطل کر دیا اور اس فیصلے سے سجاد علی شاہ کے نہ صرف وزیر اعظم بلکہ عدلیہ سے بھی اختلافات سامنے آگئے تھے۔

ان حالات میں عدالت عظمیٰ بظاہر منقسم نظر آئی اور بعض ججوں نے سجاد علی شاہ کو بطور چیف جسٹس تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا۔

کوئٹہ میں سپریم کورٹ کی رجسٹری میں جسٹس ارشاد حسن خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سجاد علی شاہ کی بطور چیف جسٹس تعیناتی پر سوال اٹھایا اور مزید احکامات تک انھیں کام کرنے سے روک دیا گیا اور بعد میں 10 رکنی بینچ نے ان کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کا نوٹیفیکیشن مسترد کردیا۔

سجاد علی شاہ کے بعد اجمل میاں کو چیف جسٹس بنایا گیا اور کچھ ماہ بعد سعید الزمان صدیقی اس عہدے تعینات کیے گئے، جن پر میاں نواز شریف کی آخری وقت تک نظر کرم رہی۔

سجاد علی شاہ اپنی پینشن اور مراعات سے بھی محروم رہے اور 2009 میں جب انھوں نے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے حکومت کو حکم دیا کہ سجاد علی شاہ کو پینشن ادا کی جائے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ میں آج بھی دیگر چیف جسٹسز کے ساتھ سجاد علی شاہ کی تصویر موجود ہے باوجود اس کے کہ اسی عدالت نے انھیں اس عہدے سے سبکدوش کر دیا تھا۔