’خدمت کریں تو قبائلی زیادہ عزت دیتے ہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
معین بیگم: فاٹا کی پہلی خآتون ایجنسی سرجن

پاکستان میں وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں میں عام طور پر خواتین کا گھروں سے باہر نکلنا معیوب سمجھا جاتا ہے اور ایسے میں وہاں خواتین کا مردوں کے درمیان رہ کر ملازمت کرنا نہ صرف جان کے خطرے کا سبب بن سکتا ہے بلکہ ایسی ملازم پیشہ خواتین کی مختلف طریقوں سے کردار کشی بھی کی جاتی ہے۔

لیکن ان علاقوں میں بعض ایسی باہمت خواتین بھی موجود ہیں جنھوں نے تمام تر خطروں اور سماجی رکاوٹوں کے باوجود عوام کی خدمت کو ہمیشہ سے اپنا نصب العین بنائے رکھا۔

ان میں کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار سے تعلق رکھنے والی معین بیگم قابل ذکر ہیں۔

معین بیگم پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں اور اس کے علاوہ وہ فاٹا کی پہلی خاتون ایجنسی سرجن بھی ہیں جو گذشتہ تین سالوں سے اس عہدے پر کام کررہی ہیں۔

عام طور ہر قبائلی ایجنسی کی سطح پر ایک ایجنسی سرجن کی نشست ہوتی ہے جس کا کام ایجنسی بھر کے تمام طبی مراکز، ڈسپنسریز اور دیہی طبی مراکز کی نگرانی کرنا ہوتا ہے۔

Image caption ڈاکٹر معین بیگم نے کہا کہ کسی قبائلی علاقے میں خاتون کا گھر سے باہر نکل کر مردوں کے درمیان کام کرنا انتہائی مشکل ہے

کرم ایجنسی میں اس وقت 40 سے زیادہ طبی مراکز قائم ہیں جس کی نگرانی کی ذمہ داری ڈاکٹر معین بیگم کی سپرد ہے جہاں ہزاروں ملازمین کام کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر معین بیگم نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ کسی قبائلی علاقے میں خاتون کا گھر سے باہر نکل کر مردوں کے درمیان کام کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے اور انھیں اس سلسلے میں سکول کے زمانے سے لے کر اب تک کئی قسم کے مشکل مرحلوں سے گزرنا پڑا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جب میں نے میڈیکل کالج میں داخلہ لے لیا تو ان دنوں ہمارے محلے میں لوگ میرے والد صاحب کو دھمکیاں دیا کرتے تھے کہ آپ کا مسجد میں داخلہ بند کردیں گے، آپ کا سماجی بائیکاٹ کردیں گے، لیکن میرے والد میرے ساتھ کھڑے رہے اور انھوں نے کبھی ان دھمکیوں کی پرواہ نہیں کی۔‘

انھوں نے کہا کہ آج وہ انھی لوگوں کی خدمت کررہی ہیں جو ان کی سب سے زیادہ مخالفت کیا کرتے تھے اور یہی ان کا مقصد بھی تھا۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر معین بیگم نے کہا کہ انھیں بچپن سے رشتہ داروں اور محلے والوں کی طرف سے دھمکیوں کا سامنا رہا ہے لیکن انھوں نے کبھی ان مسائل کو اپنے اوپر حاوی ہونے نہیں دیا بلکہ اپنی تعلیم اور ملازمت پر توجہ دی۔

Image caption معین بیگم نے کہا کہ آج وہ انہی لوگوں کی خدمت کررہی ہیں جو ان کی سب سے زیادہ مخالفت کیا کرتے تھے

’میں جب قبائلی جرگوں میں جاتی ہوں تو وہاں میں واحد خاتون ہوتی ہوں لیکن میں نے کبھی ڈر، خوف محسوس نہیں کیا۔ فاٹا میں عورتوں کا کام کرنا مشکل ضرور ہے لیکن جب آپ کوئی خدمت کر رہی ہوتی ہیں تو پھر یہی قبائلی عوام آپ کو عزت و احترام بھی زیادہ دیتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ان کے آنے سے پہلے کرم ایجنسی کے ہسپتالوں اور طبی مراکز میں خواتین سٹاف ملازمت کرنے سے کتراتی تھیں لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔

’میرے آنے سے نوکری پیشہ عورتوں کو حوصلہ ملا ہے اور یہاں تک کہ اب کئی سرکاری تنظیموں میں بھی خاتون سٹاف بھرتی کیا جا رہا ہے اور یہاں خواتین کے لیے کافی ساری امداد بھی آرہی ہے۔‘

ڈاکٹر معین بیگم کا کہنا ہے کہ کرم ایجنسی میں خواتین کے لیے تعلیمی اداروں کی تعداد فاٹا کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود یہاں مزید سکولوں اور کالجز کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس ملک میں تعلیم کو کبھی ترجیح نہیں دی گئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں