فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ پانچ شدت پسندوں کو پھانسی: آئی ایس پی آر

پاکستان، سزائے موت
Image caption کوہاٹ میں بدھ کو پانچ افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد سے قبل فوجی عدالت کے فیصلوں کے تحت 12 مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے

پاکستان میں فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے پانچ شدت پسندوں کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے بدھ کی شام جاری کیے گئے بیان کے مطابق ان پانچوں افراد کو کوہاٹ کی ڈسٹرکٹ جیل میں پھانسی دی گئی۔

پھانسی پانے والوں میں شوکت علی، امداداللہ، صابر شاہ، خاندان اور انور علی شامل ہیں۔

بیان کے مطابق پھانسی پانے والے تمام شدت پسندوں کا تعلق کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان سے تھا۔

بیان میں ان شدت پسندوں کے جرائم کے بارے میں مختصر معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں جن کے مطابق تمام شدت پسند سکیورٹی اہلکاروں پر ایسے حملوں میں ملوث تھے جن کے نتیجے میں پاکستانی فوج کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

خیال رہے کہ دسمبر 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد حکومت نے سزائے موت پر چھ برس سے عائد غیر اعلانیہ پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔

اسی حملے کے بعد ملک میں دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتیں بھی تشکیل دی گئی تھیں جن کی مدت رواں برس جنوری میں مکمل ہوئی ہے اور اس مدت میں توسیع آج کل سیاسی جماعتوں کے مذاکرات جاری ہیں۔

آئی ایس پی آر کے اعدادوشمار کے مطابق اپنی دو سالہ مدت کے دوران فوجی عدالتوں نے 274 مقدمات کی سماعت مکمل کر کے فیصلے سنائے جن میں سے 161 مقدمات میں مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی اور 113 مقدمات میں مجرموں کو قید کی سزا ہوئی۔

کوہاٹ میں ان پانچ افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد سے قبل فوجی عدالت کے فیصلوں کے تحت 12 مجرموں کو پھانسی دی گئی تھی۔

اسی بارے میں