’سوئس حکومت پاکستانیوں کی رقم کی معلومات دینے پر راضی‘

اسحاق ڈار تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ اب سوئس حکام نے پاکستان کی شرائط پر اس معاہدے پر دوبارہ بات چیت کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے

پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے سوئٹزرلینڈ کی حکومت پاکستان سے جمع کروائے جانے والے کالے دھن کے بارے میں معلومات دینے پر راضی ہو گئی ہے اور اس ضمن میں اسی ماہ ایک معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔

منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں پالیسی بیان دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ایک اعلی سطح کا وفد اس ماہ کے تیسرے ہفتے میں سوئٹزرلینڈ جائے گا جہاں سوئس حکام کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط ہوں گے۔

سوئس بینک میں پاکستانیوں کےتقریباً ایک ارب ڈالر

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت سنہ 2005 سے سوئٹزرلینڈ کے حکام سے یہ معلومات فراہم کرنے کے معاملے پر مذاکرات کرتی رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس معاہدے پر اس لیے پیش رفت نہیں ہو سکی تھی کیونکہ سوئس حکام پاکستان سے سوئٹزرلینڈ کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے اور ٹیکسوں میں چھوٹ کے مطالبات کر رہے تھے جنھیں تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ اب سوئس حکام نے پاکستان کی شرائط پر اس معاہدے پر دوبارہ بات چیت کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔

خیال رہے کہ صحافیوں کی ایک عالمی ٹیم کی جانب سے 2015 میں سامنے آنے والی تحقیق کے مطابق ایچ ایس بی سی کے سوئٹزرلینڈ میں واقع پرائیوٹ بینک کے لیک ہونے والے اکاونٹس میں پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ ڈالر اکاؤنٹ رکھنے والے ممالک میں 48ویں نمبر پر تھا۔

انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس کی رپورٹ 'سوئس لیکس' کے مطابق پاکستان سے تقریباً پچاسی کروڑ دس لاکھ ڈالر ایچ ایس بی سی کی سوئس برانچ میں رکھے گئے تھے۔ یہ اعداد و شمار سنہ 1988 سے لے کر 2006 تک کے ہیں۔

سوئس لیکس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سے منسلک اکاؤنٹس میں سب سے زیادہ رقم تیرہ کروڑ تیس لاکھ ڈالر کی تھی جس کے کھاتہ دار کی شناخت سامنے نہیں آئی۔

رپورٹ کے مطابق سنہ 1970 اور 2006 کے درمیان پاکستان سے منسلک بینک اکاؤنٹس رکھنے والے 648 کھاتہ داروں نے ایچ ایس بی سی سوئس بینک میں 314 اکاؤنٹس کھلوائے جن میں سے 34 فیصد کھاتہ دار پاکستانی قومیت رکھتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں