بجلی کے بغیر گوادر کی ترقی صرف ایک خواب

Image caption گوادر میں روزانہ کئی گھنٹے بجلی کی بندش یہاں کاروبار اور معمولات زندگی کو شدید متاثر کرتی ہے

گوادر کے شاہی بازار میں واقع شاہو لال کی دکان میں سلائی کے لیے دیے گئے کپڑوں کے ڈھیر لگتے جا رہے ہیں اور گاہکوں کے تقاضے بڑھنے لگے ہیں لیکن شاہو بجلی کی عدم دستیابی کے ہاتھوں مجبور ہیں۔

شاہو لال اور ان کے چھ کاریگر ہیں عام طور پر روزانہ دس سے بارہ جوڑے سی لیتے ہیں لیکن بجلی نہ ہونے سے ایک سے دو جوڑے ہی مشکل سے مکمل ہوتے ہیں۔۔

بلوچستان: گوادر میں پانی کی شدید قلت

بوند بوند پانی کو ترستے گوادر کے شہری

ان کا کہنا ہے کہ بجلی آدھا گھنٹہ آتی ہے تو دو گھنٹے غائب رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کام متاثر ہوتا ہے اور جب کام نہیں ہوتا تو گاہک تنگ کرتے ہیں۔'اگر بجلی نہیں ہوگی تو کاروبار میں کیا بہتری آئے گی، الٹا کاروبار بند ہوگا۔'

بلوچستان کے شہر گوادر میں روزانہ کئی گھنٹے بجلی کی بندش یہاں کاروبار اور معمولات زندگی کو شدید متاثر کرتی ہے۔ جس کی وجہ سے مقامی آبادی میں توانائی کے متبادل ذرائع کے استعمال کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔

شہر میں جگہ جگہ جنریٹر اور شمسی توانائی فراہم کرنے والی پلیٹس کی کئی دکانیں نظر آتی ہیں اور اکثر ہوٹلوں اور دکانوں میں جنریٹر موجود ہیں جو ایرانی پیٹرول کی مرہون منت ہیں۔

گوادر کے بازار کے ایک دکاندار محمد عبداللہ کا کہنا ہے کہ جنریٹر کے استعمال سے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جس کا بوجھ یقیناً عام شہریوں کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SARAH TITTERTO
Image caption جی ڈی اے کے چیئرمین ساجد بلوچ کے مطابق تین برتھوں کے لیے بجلی کی طلب 25 میگاواٹ ہے

ان کے مطابق بجلی کی بندش سے 'گرمی میں تو نیند حرام ہو جاتی ہے، بچے تڑپتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ گوادر میں ترقی ہو رہی ہے درحقیقت کچھ بھی نہیں ہو رہا صرف سیاہ سڑکیں بن رہی ہیں۔'

گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق شہر میں اس وقت بجلی کی پیداوار 18 سے 20 میگاواٹ ہے جبکہ طلب 40 میگاواٹ سے زائد ہے۔

مچھیروں کی اس بستی کو اب حکومت پاکستان ایک صنعتی اور تجارتی مرکز بنانے کا ارادہ رکھتی ہے جہاں بندرگاہ، فری ٹریڈ زون اور صنعتوں کے قیام کے ساتھ بجلی کی طلب میں اضافے کا امکان ہے اور حکام کے مطابق 2020 تک بجلی کی پیداوار کا تخمینہ 150 میگاواٹ لگایا گیا ہے۔

گوادر چین پاکستان اقتصادری راہدری میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ راہداری میں بجلی گھروں کے منصوبے بھی شامل ہیں جن پر گودار سے کئی سو کلومیٹر دور پنجاب اور سندھ میں تو عملدرآمد ہو رہا ہے مگر یہاں اس کا نام و نشان نظر نہیں آتا۔

حکومت پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ رواں سال مارچ سے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر کی تعمیر کا آغاز ہوجائے گا، لیکن منصوبہ ابھی تک منظوری کے مرحلے میں ہے۔

Image caption مقامی آبادی میں توانائی کے متبادل ذرائع کے استعمال کا رجحان فروغ پا رہا ہے

گوادر کی حدود میں داخل ہوتے ہی سڑک کے دونوں اطراف میں ویران زمینوں پر صنعتی زون، فری زون، سبزی منڈی سمیت رہائشی منصوبوں کے پینافلیکس نظر آجاتے ہیں لیکن کوئی سرگرمی نظر نہیں آتی۔ مقامی طور پر اس کی ایک وجہ بجلی کی عدم دستیابی بھی بتائی جاتی ہے۔

گودار ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین سجاد حسین کا کہنا ہے کہ 'جیسے جیسے بندرگاہ اور فری زون فعال ہوگا طلب بڑھتی جائے گی اور یہ طلب پوری کرنے کے لیے حکومت نے سی پیک کے زیر انتظام ایک منصوبہ بنایا ہے۔'

ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت دو مرحلوں میں 150 میگاواٹ کے دو پلانٹ لگائے جائیں گے، پہلا پلانٹ 2022 تک مکمل ہوجائے گا اور ایک چینی کمپنی نے انڈپینڈنٹ پاور پروائیڈر کے طور پر پلانٹ کی تعمیر کی حامی بھرلی ہے۔

گوادر بندرگاہ پر اس وقت تین برتھ ہیں۔ سجاد حسین کے مطابق تین برتھوں کے لیے بجلی کی طلب 25 میگاواٹ ہے جبکہ وقت کے ساتھ ساتھ 2050 تک ان برتھوں کی تعداد 80 تک پہنچ جائےگی۔ اسی طرح بندرگاہ سے منسلک فری ٹریڈ زون کی ابتدائی طلب 50 میگاواٹ ہے۔

گوادر میں ہر مسئلے کی جڑیں بظاہر بجلی سے ہی ملتی نظر آتی ہیں۔ پینے کے پانی کی کمی کے حل کے لیے سمندر کے پانی کو صاف کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔ ساجد بلوچ کے مطابق 'پانچ ملین گیلن پانی یومیہ صاف کرنے والے پلانٹ کے لیے سات میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے، اس کے ساتھ ہسپتال کو پچاس سے 300 بستروں کا ہسپتال بنانا ہے جس کے لیے بھی بجلی درکار ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Bloomberg
Image caption گوادر کی حدود میں داخل ہوتے ہی سڑک کے دونوں اطراف میں ویران زمینوں پر صنعتی زون، فری زون، سبزی منڈی سمیت رہائشی منصوبوں کے پینافلیکس نظر آجاتے ہیں لیکن کوئی سرگرمی نظر نہیں آتی

مکران ڈویژن کے تین اضلاع میں بجلی کی فراہمی کا دارومدار اس وقت ایران پر ہے۔ ایران سے 70 میگاواٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے جس میں سے 15 میگاواٹ گوادر کو ملتے ہیں۔

سجاد حسین کا کہنا ہے کہ اب ایران سے معاہدہ کیا گیا ہے جس کے تحت 100 میگاواٹ براہِ راست گوادر کو فراہم کیے جائیں گے۔ اس پر ایران کی طرف 80 فیصد کام ہوچکا ہے لیکن پاکستان کی طرف ایران پر عالمی پابندی کی وجہ سے کام رک گیا تھا جو دوبارہ بحال ہونا ہے۔

بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ کے معاون اور ماہر اقتصادیات ڈاکٹر قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ 'گوادر میں ہی پاور پلانٹ لگانے کے بجائے مناسب یہ ہے کہ ایران سے جو لائن آرہی ہے اس کو استعمال کیا جائے کیونکہ ایران زیادہ بجلی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے اور وہاں سے لائن بھی موجود ہے۔'

حکومت پاکستان گوادر بندرگاہ سے منسلک منصوبوں کو خطے میں گیم چینـجر قرار دے رہی ہے لیکن کیا بغیر بجلی اور پانی کے ترقی کا یہ کھیل کھیلا جاسکتا ہے؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں