'لو جی اک ہور مکا۔۔۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook MURAD SAEED
Image caption مراد سعید پر الزام ہے کہ وہ مختلف ٹی وی پروگراموں پر بھی حکمراں جماعت کے علاوہ پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ سے بھی اُلجھتے رہتے ہیں

پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی شہریار آفریدی کو حکمراں جماعت کے رکن معین وٹو کی طرف سے پڑنے والے تھپڑ کی گونج ابھی قومی اسمبلی کے ایوان سے کم بھی نہیں ہوئی تھی کہ ایک اور رکن پارلیمنٹ کو مکّا جڑ دیا گیا۔

فرق صرف اتنا تھا کہ پہلے اس تھپڑ کا نشانہ بننے والے رکن اسمبلی کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے تھا جبکہ اس مرتبہ متاثرہ رکن پارلیمان جاوید لطیف کا تعلق حکومتی جماعت سے ہے اور مکا مارنے والے سوات سے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی مراد سعید ہیں۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو جاوید لطیف نے نکتۂ اعتراض پر بات کرتے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت نے اتنی محنت کے بعد پاکستان میں پی ایس ایل کا فائنل میچ کروایا جسے عمران خان نے پہلے تو ایک پاگل پن قرار دے دیا اور پھر اس کے بعد اس میچ میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو 'پھٹیچر اور ریلو کٹے' قرار دے دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کے ان غیر ملکی کرکٹر ز کے بارے میں ایسے الفاظ سے ان عالمی کرکڑز کی دل آزاری ہوئی ہوگی۔

جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ جو شخص ملکی معاملات کو خراب کرے اور کھلاڑیوں کے بارے میں غیر مناسب الفاظ استعمال کرے تو اُسے بھی 'غدار' قرار دیا جانا چاہیے۔

حکمراں جماعت کے رکن قومی اسمبلی نے ایوان میں بیٹھے ہوئے ارکان اسمبلی سے کہا کہ وہ اپنے لیڈر کو عقل سکھائیں۔

جاوید لطیف کی طرف سے یہ الفاظ ادا ہونے کی دیر تھی کہ اس وقت ایوان میں موجود پی ٹی آئی کے دس کے قریب ارکان آگ بگولہ ہوگئے اور احتجاج شروع کر دیا اور اسی دوران قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر مرتضی جاوید عباسی نے اجلاس جمعے کے صبح دس بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔

پی ٹی آئی کے ارکان کو ایوان میں اس معاملے پر جوابی تقریر میں اپنا موقف دینے کا موقع نہ ملنے پر غصہ تھا جس کا نتیجہ اسمبلی کے گیٹ نمبر ایک کے قریب اپنی گاڑیوں کے انتظار میں کھڑے مراد سعید اور جاوید لطیف کے درمیان دوبارہ تلخ کلامی کی شکل میں نکلا۔

جب وہاں موجود دیگر ارکان نے بیچ بچاؤ کروانے کی کوشش کی تو اسی دوران ایک رکن پارلیمان کے دھکے سے مراد سعید نیچے گر گئے۔

اس کے بعد یہ تلخ کلامی شدت اختیار کر گئی اور اسی دوران مراد سعید نے جاوید لطیف کے منہ پر مکا دے مارا۔تاہم ان کا یہ مکا اپنے نشانے پر تو نہیں لگا اور جاوید لطیف کے سامنے کھڑے ہوئے شخص کے کندھے کو چھوتا ہوا گزر گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ANADOLU AGENCY
Image caption جاوید لطیف کے بیان پر ایوان میں بیٹھے ہوئے دس کے قریب پی ٹی آئی کے ارکان آگ بگولہ ہوگئے

اسی دوران سکیورٹی حکام بھی وہاں پہنچ گئے اور اُنھوں نے بیچ بچاؤ کروا دیا۔

معاملہ سلجھنے کے بعد بھی یہ واقعہ موقع پر موجود ارکان پارلیمان کے درمیان زیرِ بحث رہا اور ایک تبصرہ یہ سننے کو ملا کہ 'لو جی اک ہور مکا پے گیا جے'۔ (ایک اور مکا پڑ گیا ہے)۔

قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے جبکہ مسلم لیگ نواز اور پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کی جانب سے میڈیا پر ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

مراد سعید اس جھگڑے سے قبل قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے لیے مزید وقت نہ دیے جانے پر قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر سے بھی اُلجھ پڑے تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن کا کہنا تھا کہ حکمراں جماعت کے رکن نے عمران خان کو غدار کہا جسے کسی طور پر بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا اور وہ اپنی تقریر میں پختونوں کے ساتھ ملک کے دوسرے علاقوں میں ہونے والے غیر مساوی سلوک پر بات کرنا چاہتے تھے تاہم ڈپٹی سپیکر نے اُن کا مائیک بند کروا دیا۔

خیال رہے کہ مراد سعید پر ماضی میں بھی مختلف ٹی وی پروگراموں پر بھی حکمراں جماعت کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ سے بھی اُلجھنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں