فوجی عدالتوں کا بل ایک بار پھر پارلیمانی کمیٹی کے سپرد

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Anadolu Agency
Image caption وفاقی وزیر زاہد حامد نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں فوجی عدالتوں میں قیام میں توسیع کا بل پیش کیا

پاکستان کی وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے تاہم حکمراں اتحاد میں شامل جے یو آئی (ف) اور حزب مخالف کی طرف سے مخالفت کے بعد اسے دوبارہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔

حکمراں اتحاد میں شامل جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا موقف یہ تھا کہ جس شکل میں یہ بل پیش کیا جا رہا ہے اس طرح تو ان کی جماعت پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے ووٹ نہیں دے سکتی۔

فوجی عدالتوں پر اپنی تجاویز سے دستبردار نہیں ہوئے: پیپلز پارٹی

ان کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اس بل کی مخالفت کی اور اس کے رہنماؤں کا موقف تھا کہ وہ اس بل میں تبدیلی کے لیے دی گئی اپنی تجاویز سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

وفاقی وزیر زاہد حامد نے جمعے کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں فوجی عدالتوں میں قیام میں توسیع کا جو بل پیش کیا اس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں اس وقت غیرمعمولی حالات ہیں اور شدت پسند تنظیموں اور جماعتوں نے مذہب اور فرقے کا غلط استعمال کرتے ہوئے ریاست کے خلاف ہتھیار اُٹھائے ہوئے ہیں۔

بل کے مطابق ایسے افراد کو غیرملکی اور مقامی غیر ریاستی عناصر نہ صرف فنڈز مہیا کر رہے ہیں بلکہ اُنھیں ہتھیار بھی فراہم کررہے ہیں۔

بل کے مطابق ایسے افراد نہ صرف ملک میں بدامنی پھیلا رہے ہیں بلکہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں، اس لیے ایسے حالات میں شت پسندی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف درج ہونے والے مقدمات کی سماعت فوجی عدالتوں میں کروانا ناگزیر ہے۔

زاہد حامد کی طرف سے بل پیش کیے جانے کے بعد حکمراں اتحاد میں شامل جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسندی کو مذہب یا کسی فرقے کے ساتھ جوڑنا کسی طور پر بھی مناسب نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ جو لوگ بھتہ لیتے ہیں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کرتے ہیں کیا اُنھیں مذہب یا کسی فرقے کے ساتھ جوڑا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں اس وقت غیر معمولی حالات ہیں اور ریاست کو ایسے افراد کو کچلنے کے لیے بھرپور قوت کا استعمال کرنا چاہیے لیکن یہ تاثر دینے کی کوشش نہ کی جائے کہ شدت پسندی کا تعلق کسی مذہب یا فرقے سے ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ حکومت اس بل میں مذہبی دہشت گردی کے بجائے مناسب لفظ استعمال کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرحت اللہ بابر نے گذشتہ شب کہا کہ آئینی ترمیم میں ترامیم پیش کرنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے

پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عذرا پیچیہو نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی جماعت کی طرف سے فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع سے متعلق جو نو تجاویز دی ہیں اُن میں سے کسی ایک تجویز سے بھی اُن کی جماعت پیچھے نہیں ہٹی ۔

اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ دو سال کے دوران اگر نیشنل ایکشن پلان پر صحیح طریقے سے عمل درامد کیا ہوتا تو شائد فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رکن اسمبلی شیخ صلاح الدین نے کہا کہ حکومت خود ہی فوجی عدالتوں میں توسیع کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جس طرح فوجی عدالتوں کے قیام کے بارے میں وزیراعظم کی سربراہی میں کل جماعتی کانفرنس بلا کر سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کیا گیا تھا اسی طرح ان عدالتوں میں توسیع کے معاملے پر بھی سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کا اجلاس طلب کرکے اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔

واضح رہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام کا بل سات جنوری 2015 کو نافذ العمل ہوا اور دو سال کی مدت مکمل ہونے کے بعد ان عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات نہیں بھیجے جا رہے۔

اسی بارے میں