’عمران خان کی ویڈیو اور اظہارِ یکجہتی ‘

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سوشلستان میں یہ ہفتہ پاکستان سُپر لیگ کے تذکروں سے بھرپور رہا اور اس بہتی گنگا میں پھٹیچر بھی شامل ہو گیا۔ قومی اسمبلی میں گالم گلوچ اور کچھ اور معاملات کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی جاتی رہیں۔ مگر پہلے بات کریں گے اس لیک کی جانے والی ویڈیو کا۔

عمران خان کا خبر لیک کرنے والی صحافی سے اظہارِ یکجہتی

پاکستانی سوشل میڈیا پر گذشتہ چند دنوں سے اس خاتون صحافی کے بارے میں طرح طرح کے الزامات لگائے جا رہے ہیں جنھوں نے عمران خان کی ویڈیو میڈیا پر شیئر کی۔

پی ٹی آئی اے کے کارکن اور رہنما ویڈیو کے منظرِعام پر آنے کے بعد سے اس صحافی پر شدید تنقید کرتے ہیں اور ایسی کی تنقید سوشل میڈیا پر کی جا رہی ہے۔

پھٹیچر، ریلو کٹّے اور عمران خان

گلگت سے تعلق رکھنے والے صحافی کے شوہر کو امریکی بنا کر پیش کیے جانے سے لے کر غدار اور دشمنِ وطن تک قرار دے دیا گیا۔

مگر اچانک سے ان سب حلقوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا اور جب تھوڑی تحقیق کی تو پتا چلا کہ مذکورہ صحافی نے عمران خان سے ملاقات کی جس میں اُن کے شوہر اور صحافی تنظیم کے رہنما اور نعیم الحق بھی موجود تھے۔

اب ایسے میں عمران خان کے بڑے پن کی تعریفوں سے بھرپور ٹویٹس تو بنتی ہیں۔

صحافی عفت حسین رضوی نے عمران خان سے اپنے اور اپنے شوہر کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم کے بارے میں عمران خان کو توجہ دلائی جس پر عمران خان نے اس صحافی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

اب اُن شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کا کیا بنے گا جنہوں نے انتھک محنت سے جھوٹے پوسٹر تیار کر کے سوشل میڈیا پر چلائے اور نجانے کہاں کی بات کہاں تک پہنچا دی؟

فیس بُک اور پی ٹی اے کا تعاون

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

گذشتہ دنوں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر موجود توہین آمیز مواد ہٹانے کے لیے فیس بُک پی ٹی اے کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور پی ٹی اے عدالتی اور حکومتی احکامات پر عملدرآمد کروانے کے لیے کوشاں ہے۔

ساتھ ہی ساتھ ایسے پیغامات سوشل میڈیا اور وٹس ایپ پر شیئر کیے جا رہے ہیں جن میں تھانہ سائبر کرائم فیڈرل کرائم ایجنسی اسلام آباد کی جانب سے عوام سے اس بات کی اپیل کی جا رہی ہے کہ 'فیس بُک پر توہینِ رسالت کے مرتکب افراد کی نشاندہی میں مدد کریں۔'

اس اشتہار پر سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں توہینِ رسالت کے مرتکب افراد کو قانون کی گرفت میں پہنچنے سے پہلے ہی سزا دے دی جاتی ہے سائبر کرائم کے ماہرین کیا چاہتے ہیں؟

آخر کروڑوں روپے کے اخراجات سے جو آلات اور نظام حکومت نے لگائے ہیں ان کا کیا مقصد ہے اگر عوام نے ہی نشاندہی کرنی ہے؟

اور اگر نشاندہی عوام نے کرنی ہے تو ایک تفتیشی ایجنسی کی قابلیت کیا ہو گی جو خود یہ سب نہیں دیکھ سکتی تو پرکھے گی کیسے؟

بینا شاہ نے لکھا کہ 'جب پاکستان میں آپ کو کسی نے انٹرنیٹ پر ٹرول کرنا ہوتا ہے تو وہ 295C لکھ کر آپ کو جواب دیتا ہے تاکہ آپ کو چُپ کرا سکے۔'

حسن پرویز نے لکھا کہ'پاکستان میں توہین کا الزام لگانا بہت آسان ہے۔'

اسے ہی ایک الزام میں گوجرانوالا میں ایک ہجوم نے ایک پوری آبادی پر دھاوا بولا جس میں دو معصوم بچیاں اور اُن کی نانی جان سے گئیں۔ بعد میں بے شک ملزم کو بری کر دیا گیا مگر اجڑنے والے آج تک بس نہیں سکے۔

اس ہفتے کا تعارف

اس ہفتے بات کریں گے پاکستانی فوٹوگرافر عالیہ عمران کی جن کی تصاویر انسٹاگرام پر پاکستانی شہروں کو ایک مختلف انداز میں پیش کرتی ہیں۔

اس ہفتے کی تصویر

ہنزہ میں بلتت قلعے کے دامن میں ایک مقامی بزرگ خاتون جو اپنے ہاتھ سے بنی کڑھائی والی اشیا فروخت کرتی ہیں۔

کوئٹہ میں پیرا گلائڈنگ

اسی بارے میں