فتووں سے آگے نکلنا اور قوم کے آگے دین کا متبادل بیانیہ رکھنا ہوگا: نواز شریف

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نواز شریف کا کہنا تھا کہ مدارس کی تعلیم بھی اس کی بنیاد پر استوار ہونی چاہیے

پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ قوم کے آگے دین کا وہ متبادل بیانیہ رکھنا ہوگا جو مذہب کے نام پر فساد کی مذمت کرتا ہے۔

لاہور میں سنیچر کو جامعۂ نعیمیہ میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ 'دہشت گردی کے لیے دینی دلائل تراشے جاتے ہیں اور ہمیں ان کو رد کرنا ہے۔'

’اب اچھے اور برے طالبان کا دور ختم ہو چکا‘

’کھیتوں میں بارود بویا جائے تو پھول نہیں کھلتے‘

انھوں نے کہا کہ 'ہمیں فتووں سے آگے نکلنا اور قوم کے آگے دین کا متبادل بیانیہ رکھنا ہو گا اور یہی اسلام کا حقیقی بیانیہ ہے اور آج ضرورت ہے کہ اسے عوام کے سامنے رکھا جائے۔‘

نواز شریف کا کہنا تھا کہ اسی بیانیے کی اساس پر معاشرہ سازی ہونی چاہیے اور مدارس کی تعلیم بھی اس کی بنیاد پر استوار ہونی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ علما کو عوام کو بتانا چاہیے کہ 'وہ معاشرہ مسلم کہلانے کا مستحق نہیں جس میں مسلکی اختلافات کی وجہ سے انسان قتل ہوں، جہاں اقلیتیں خود کو غیرمحفوظ سمجھیں اور جہاں مذہب اختلاف اور تفرقے کا سبب بنے۔'

وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ علما کو سوچنا ہو گا کہ 'ہمارے دینی ادارے دین کے مبلغ پیدا کر رہے ہیں یا مسالک کے علمبردار اور اس کے نتیجے میں معاشرہ دین کی بنیاد پر جمع ہو رہا ہے یا پھر تقسیم؟'

نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ 'دہشت گردی کے لیے دینی دلائل تراشے جاتے ہیں اور ہمیں ان کو رد کرنا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی بنیادیں انتہاپسندی میں ہیں، وہ انتہاپسندی جو دین کے نام پر پھیلائی جاتی ہے جس کا ایک مظہر فرقہ واریت ہے اور دوسرے مظہر میں جہاد کے تصور کو مسخ کیا گیا ہے اور خدا کے نام پر بےگناہوں کے قتل کو جائز قرار دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption آپریشن ردالفساد کرنے کا فیصلہ ملک میں شدت پسندی کی نئی لہر میں 100 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے بعد ہوا ہے

وزیراعظم نے کہا کہ 'یہی وہ دو بیانیے ہیں جنھوں نے انتہاپسند پیدا کیے۔ پہلے مسلمانوں کی تکفیر کی گئی اور پھر ان کے قتل کو جائز قرار دیا گیا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان بیانیوں کی غلطی کو واضح کیا جائے اور ایک نیا بیانیہ جاری کیا جائے۔'

نواز شریف نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے اکادکا واقعات ہو رہے ہیں اور معاشرے میں آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو شدت پسندوں اور ان نظریات کے سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں مگر ریاست ان کا کھوج لگا رہی ہے۔

خیال رہے کہ وزیراعظم کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر آیا ہے جب ملک میں شدت پسندوں کے خلاف نیا فوجی آپریشن ’ردالفساد‘ شروع ہوا ہے۔

یہ آپریشن کرنے کا فیصلہ ملک میں شدت پسندی کی نئی لہر میں 100 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے بعد ہوا ہے۔ اس آپریشن کے دوران ملک کے تمام صوبوں میں کارروائیاں کی جا رہی ہیں جن کے دوران سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں