’پاک افغان سرحد کی بندش سے کروڑوں روپے کے پھل اور سبزیاں ضائع‘

Image caption پریس کانفرنس کے دوران آل پارٹیز و تاجر اتحاد کے صدر مولوی عبدالخالق نے بتایا کہ چمن کے لاکھوں افراد پر مشتمل آبادی کا تمام تر انحصار سرحدی تجارت پر ہے کیونکہ چمن اور اس سے متصل علاقوں میں روزگار کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن کے تاجروں اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کی بندش کے خلاف احتجاج کی دھمکی دی ہے۔

احتجاج کی یہ دھمکی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سرحد کی بندش سے نہ صرف تاجروں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے روزگار بھی ہوئے ہیں۔

بلوچستان سے پاکستان کی افغانستان کے ساتھ سرحد 1250 کلومیٹر پر مشتمل ہے۔

Image caption پاک افغان سرحد کو دو دن کے لیے کھولا گیا تھا لیکن اب وہ پھر بند ہے

بلوچستان کے جن چھ اضلاع کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں ان میں چاغی، نوشکی، قلعہ عبد اللہ ، پشین، قلعہ سیف اللہ اور ژوب شامل ہیں لیکن ان اضلاع میں سے قلعہ عبداللہ سے چمن کا علاقہ کوئٹہ اور افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندہار کے درمیان سب سے بڑی گزرگاہ ہے۔

اگرچہ 7 اور8 مارچ کو دو روز کے لیے چمن سے سرحد کو پیدل آمد و رفت کے لیے کھول تو دیا گیا تھا لیکن تجارت کے لیے یہ مستقل بند ہے جس سے تاجروں کو کافی نقصان ہو رہا ہے۔

انجمن تاجران کے صدر محمد صادق اچکزئی کا کہنا تھا کہ سرحد کی بندش کے اقدام سے نہ صرف چمن کے تاجروں بلکہ افغانستان کے مقابلے میں مجموعی طور پر پاکستانی تاجروں کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے کیونکہ اس وقت افغانستان سے قانونی طور پر کوئی خاص چیز نہیں آرہی ہے بلکہ سب کچھ پاکستان سے جا رہا ہے۔

کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر اختر کاکڑ کا کہنا ہے کہ افغانستان پاکستانی اشیاء کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔

انھوں نے بتایا کہ افغانستان سے بھی مختلف اشیاء آتی ہیں لیکن ان کی شرح پاکستان کے 85 سے90 فیصد اشیاء کے مقابلے میں دس سے پندرہ فیصد ہے مگر اس موسم میں تو افغانستان سے صرف پانچ فیصد اشیاء پاکستان آتی ہیں۔

Image caption کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر اختر کاکڑ کا کہنا ہے کہ افغانستان پاکستانی اشیاء کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔

ان کا کہنا تھا آٹا، چاول ، ادویات سے لیکر عام استعمال کی تمام اشیاء پاکستان سے افغانستان جاتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ افغانستان پاکستانی پھلوں اور سبزیوں کی بھی بڑی مارکیٹ ہے۔

مرغی اور مچھلی کے علاوہ اس وقت پنجاب اور سندھ کی جو سبزیاں اور پھل افغانستان جا رہے ہیں ان میں مالٹا، امرود، کیلا، آلو ،ٹماٹر اور پیاز وغیرہ شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے علاوہ ان میں بعض اشیاء افغانستان کے راستے وسط ایشیائی ریاستوں میں بھی جاتی ہیں۔

صادق اچکزئی نے بتایا کہ ’سرحد کی بندش کی وجہ سے کروڑوں روپے کے پھل اور سبزیاں ضائع بھی ہوئی ہیں۔‘

پریس کانفرنس کے دوران آل پارٹیز و تاجر اتحاد کے صدر مولوی عبدالخالق نے بتایا کہ چمن کے لاکھوں افراد پر مشتمل آبادی کا تمام تر انحصار سرحدی تجارت پر ہے کیونکہ چمن اور اس سے متصل علاقوں میں روزگار کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے۔

انجمن تاجران چمن کے صدر صادق اچکزئی کے مطابق سرحد کی بندش سے وہ لوگ بری طرح سے متاثر ہوئے ہیں جو روزانہ محنت مزدوری کے لیے افغانستان کی منڈیوں میں جاتے تھے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

Image caption آٹا، چاول ، ادویات سے لیکر عام استعمال کی کئی اشیاء پاکستان سے افغانستان جاتی ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران تحریک انصاف کے رہنما نذیر اچکزئی نے بتایا کہ چمن کے تاجروں کا مطالبہ ہے کہ جو بھی قانونی تجارت ہے اس کے لیے سرحد کو فوری طور پر کھول دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں 19 مارچ کو چمن شہر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی۔ اس کے بعد احتجاج کو کوئٹہ اور چمن کے درمیان شاہراہ کی غیر معینہ مدت کی بندش تک بڑھایا جائے گا۔

اسی بارے میں