’جوہری توانائی کو غلط ہاتھوں میں نہیں جانے دیا جائے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کی جانب سے غیر جوہری ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنے سے روکنے کے عہد کا اعادہ وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے اسلام آباد میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی ایک کانفرنس میں کیا

پاکستان نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ وہ دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کرے گا تا کہ ان ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنے سے روکا جائے جن کے پاس ابھی تک جوہری ہتھیار بنانے کی اہلیت نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستان کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والا یہ بیان اس لحاظ سے غیر متوقع ہے کہ پاکستان اور انڈیا دونوں تخفیف اسلحہ کے بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی دوڑ ایک عرصے سے جاری ہے۔

پاکستان کی جانب سے غیر جوہری ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنے سے روکنے کے عہد کا اعادہ وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے اسلام آباد میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی ایک کانفرنس میں کیا۔ اس کانفرنس میں جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے ممالک کے نمائندوں کے علاوہ چین اور روس کے مندوبین بھی شرکت کر رہے ہیں۔

سرتاج عزیز نے کانفرنس کے شرکا کو بتایا کہ پاکستان نے ایسی احتیاطی تدابیر اختیار کر لیں ہیں جن سے جوہری ٹیکنالوجی کو غلط ہاتھوں میں جانے سے روکا جا سکے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جنھوں نے تیرہ سال پہلے اقوام متحدہ کی جوہری، بائیولوجیکل اور کیمیائی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کی ایک قرارداد پر دستخط کر دیے تھے۔ اس قرارداد میں خاص طور پر رکن ممالک پر زور دیا گیا تھا کہ وہ ’نان سٹیٹ ایکٹرز‘ یا غیر ریاستی عناصر کو ایسی ٹیکنالوجی اور مواد کو حاصل کرنے سے روکیں گے جس سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی جا سکتی ہے۔

تاہم اس حوالے سے پاکستان کی تاریخ اس کے اس عہد کی تائید نہیں کرتی کیونکہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے خالق ڈاکٹر عبدالقدید خان پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ انھوں نے جوہری ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی چوری چھپے شمالی کوریا کو دے دی تھی۔

جہاں تک پاکستان اور انڈیا کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کا تعلق ہے تو اس کا آغاز سنہ 1970 کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں اس وقت ہوا تھا جب انڈیا نے اپنے پروگرام کا آغاز کیا اور پھر جلد ہی پاکستان نے بھی ایسا ہی کیا۔

بین الاقوامی برادری کو خدشہ ہے کہ چونکہ القاعدہ سمیت کئی دہشتگرد گروہ اور نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے دہشتگرد پاکستان اور افغانستان میں کئی حملے کرنے میں کامیاب رہے ہیں، اس لیے اس بات کا خطرہ زیادہ ہے کہ پاکستان کی جوہری ٹیکنالوجی ان گروہوں کے ہاتھ لگ سکتی ہے۔

ماٰضی میں بھی پاکستان پر اس کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے حوالے سے پابندیاں لگائی جاتی رہی ہیں۔