کوئی کسی کا زبردستی مذہب تبدیل نہیں کروا سکتا: نواز شریف

Image caption نواز شریف

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ کوئی کسی دوسرے کو کوئی خاص مذہب اختیار کرنے کے لیے مجبور نہیں کر سکتا۔

کراچی میں ہندو برادری کے مذہبی تہوار ہولی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے ملک میں بسنے والی ہندو برادری کی ترقی کے لیے 50 کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ہندو برادری کی ترقی کے لیے کام کی ابتدا ہے۔

٭ہندوؤں سے امتیازی سلوک، مودی کا شکوہ

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’خدا حکمران سے یہ نہیں پوچھے گا کہ کسی خاص مذہب کے پیروکاروں کے لیے کیا کیا، پوچھا یہ جائے گا کہ تم نے مخلوقِ خدا کے لیے کیا کیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مذہب کو اختیار کرنے کا حق اللہ نے دیا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق نواز شریف نے کہا کہ کسی کو زبردستی مذہب تبدیل کرنے کے لیے کہنا جرم ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان اور اس کی وحدت اور استحکام کے لیے ہمیں صرف پاکستانی بن کر سوچنا ہو گا۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے تمام مذاہب انسانیت اور دیگر مذاہب کا احترام سکھاتے ہیں۔

اسلام کی مقدس کتاب قرآن مجید کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس میں لکھا ہے کہ ’آپ کسی مذہب کو برا نہ کہیں، کسی کی عبادت گاہ کو برا نہ کہیں۔۔۔ اسلام دوسرے مذہبوں اور کتابوں کا احترام سکھاتا ہے، ہمارا مقابلہ ایک دوسرے سے نہیں بلکہ خوف، بدامنی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مندروں، کلیساؤں اور دوسری عبادت گاہوں کی حفاظت کرنی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں اگرکوئی جھگڑا ہے تو وہ امن اور فساد کی قوتوں کے درمیان جھگڑا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو نوجوانوں کا مستقبل بہتر کرنا چاہتے ہیں جبکہ ایک جانب وہ لوگ ہیں جو نوجوانوں کا استحصال کرنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں