برطانوی میزبانی میں پاک افغان مذاکرات بدھ کو

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان بدھ کو لندن میں اہم مذاکرات ہو رہے ہیں۔

برطانوی حکومت کی میزبانی میں 15 مارچ کو لندن میں ہونے والے ان مذاکرات میں پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر براے خارجہ امور سرتاج عزیز، افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر، پاکستان میں افغان سفیر ڈاکٹر عمر زخیلوال اور برطانیہ کی قومی سلامتی کے مشیر مارک لائل گرانٹ شرکت کر رہے ہیں۔

لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کے ذرائع نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان مذاکرات کی تصدیق کی اور بتایا کہ ان مذاکرات میں شرکت کے لیے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز بدھ کو لندن پہنچ رہے ہیں۔

پاکستان میں افغان سفیر ڈاکٹر عمر زخیلوال کے مطابق: ’میں اور افغان قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر برطانوی حکومت کی میزبانی میں ہونے والے ان مذاکرات میں شرکت کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز اور برطانیہ کی قومی سلامتی کے مشیر مارک لائل گرانٹ شریک ہوں گے۔

افغان حکام کے مطابق ان مذاکرات میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشتگردی کے خاتمے کے لیے تعاون کے طریقہ کار اور حالیہ کشیدگی میں کمی کے علاوہ دونوں ممال کے درمیان سرحد کی بندش پر بات چیت ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

‎دوسری جانب برطانوی وزارت خارجہ نے بھی لندن میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات کی تصدیق کی تاہم اس حوالے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب حال ہی میں لاہور اور سہون میں ہونے والے دھماکوں کے بعد پاک افغان تعلقات میں کشیدگی اور تناؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پاکستان نے ملک میں شدت پسندی کی تازہ لہر میں 100 سے زیادہ ہلاکتوں کے بعد 16 فروری کو افغانستان سے متصل اپنی سرحد غیرمعینہ مدت کے لیے بند کر دی تھی۔

تاہم بعد میں رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد 18 دن کی بندش کے بعد دو دن کے لیے کھول دی گئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں