بلوچستان کے سیکریٹری ہائیر ایجوکیشن کوئٹہ سے اغوا

Image caption محکمہ شماریات کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا مردم شماری سے متعلق تمام اشیا فراہم کی جا چکی ہیں

پاکستان کےصوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے سیکریٹری ہائیر ایجوکیشن عبداللہ جان کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

کوئٹہ پولیس کے ذرائع کے مطابق ان کو بروری کے علاقے میں وحدت کالونی سے اغوا کیا گیا جب وہ اپنی گاڑی میں ڈرائیور کے ہمراہ اپنے دفتر جا رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق مسلح افراد سیکریٹری تعلیم اور ان کے ڈرائیور کو ایک دوسری گاڑی میں بٹھانے کے بعد کلی دیبہ کی جانب لے گئے۔

کچھ فاصلے کے بعد ڈرائیور کو تو چھوڑ دیا گیا تاہم اغوا کار سیکریٹری تعلیم کو نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔

بلوچستان سے 24 گھنٹوں کے دوران اغوا کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔

اس سے قبل بلوچستان کے ضلع آواران سے ایسے تین سرکاری ملازمین کو اغوا کیا گیا ہے جنھوں نے 15 مارچ سے شروع ہونے والی مردم شماری میں حصہ لینا تھا۔

آواران میں انتظامیہ کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان افراد کو ضلع کے علاقے گیشگور سے اغوا کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اغوا ہونے والے تینوں افراد ٹیچرز تھے جو کہ مردم شماری سے متعلق تربیت حاصل کرنے کے بعد واپس اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔

آواران کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متاثر ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان کی بلوچ قوم پرست جماعتوں کی جانب سے مردم شماری کے حوالے سے بڑے پیمانے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ان کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ مردم شماری کے عمل سے پہلے افغان مہاجرین سمیت تمام غیر ملکیوں کو واپس بھیجا جائے اور شورش کے باعث بلوچستان کے بلوچ آبادی والے علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو ان کے علاقوں میں دوبارہ آباد کیا جائے۔

ان تحفظات کے علاوہ ایک بلوچ عسکریت پسند تنظیم کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے مردم شماری کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔

تاہم کمشنر شماریات کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے حوالے سے سکیورٹی کا کوئی بڑا مسئلہ درپیش نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مردم شماری کے عملے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سکیورٹی کے ہر ممکن اقدامات کیے گئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں