پاکستان میں نو سال کے التواء کے بعد چھٹی مردم شماری کا آغاز

مردم شماری تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں آج بدھ سے نو برس کے التواء کے بعد چھٹی مردم شماری کا آغاز ہو گیا ہے جس میں 63 اضلاع میں شروع ہونے والے پہلا مرحلہ آئندہ ماہ کی 15 تاریخ تک جاری رہے گا۔

پہلے مرحلے میں پنجاب کے 16 سندھ کے 8، خیبر پختونخوا کے7 اضلاع، فاٹا کی سات ایجنسیاں، بلوچستان کے 15، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلستان کے پانچ پانچ اضلاع شامل ہیں۔

جبکہ دس دن کے وقفے کے بعد 25 مارچ سے شروع ہونے والے دوسرے مرحلے میں پنجاب اور سندھ کے 21 21 اضلاع، خیبرپختونخوا کے 18، بلوچستان کے 17 اضلاع، وفاقی دارلحکومت اسلام آباد، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے پانچ پانچ اضلاع شامل ہیں۔

مردم شماری میں 118826 افراد پر مشتمل عملہ اور دو لاکھ فوجی اہلکار شامل ہیں۔

سخت سکیورٹی میں مردم شماری کا پہلا مرحلہ

’پڑھنے لکھنے کا خواب ادھورا رہ گیا‘

مردم شماری پر سیاسی جماعتوں کے تحفظات

پاکستان میں چھٹی مردم شماری کا آغاز ایسے وقت میں ہوا ہے جب صوبہ سندھ میں اِسے سیاسی مخالفت کا سامنا ہے اور قبائلی علاقوں کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

پاکستان کے ادارہ برائے شماریات کے سربراہ اور چیف سینسس کمشنر آصف باجوہ اِسے ایک آئینی عمل قرار دے رہے ہیں جو ہر حال میں ہونا ہے تاکہ وسائل کی تقسیم مساوی انداز میں ہو سکے لیکن بعض سیاسی جماعتیں اِسے اپنے مینڈیٹ پر ڈاکے سے تشبیہ دے رہی ہیں۔

بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں چیف سینسس کمشنر آصف باجوہ نے بتایا کہ اُن کو اِس وقت درپیش سب سے بڑا چیلینج یہ ہے کہ 'عوام کو اِس بات پر مائل کیا جائے کہ وہ مردم شماری کا نمائندہ اُن کے پاس جائے تو اُس سے تعاون کریں اور اُس وقت کریں جب وہ آپ کے گھر پر آئے نہ کہ کسی اور وقت آنے کا کہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اُنہوں نے بتایا کہ اِس کے علاوہ دوسرا چیلنج ادارے کا انتظامی ہے جس میں عملے کے ایک لاکھ 18 ہزار افراد کی تربیت اور اُنہیں پونے دو لاکھ بلاکوں میں تقسیم کر کے اندراج کروانا اور پر کیے گئے فارمز کی واپسی شامل ہے۔

آصف باجوہ نے بتایا کہ مردم شماری کو شفاف بنانے کے لیے اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کی حمایت حاصل ہے اور اُن کی زیرِ نگرانی بین الاقوامی اور مقامی مبصرین آ رہے ہیں جو اِس عمل کا جائزہ لیتے رہیں گے اور ادارہ برائے شماریات اُن کو ملک کے طول و عرض میں جانے میں مدد فراہم کرے گا۔

چیف سینسس کمشنر نے بتایا کہ غلط معلومات فراہم کرنے پر جرمانے اور سزائیں دینے کا زیادہ دآرومدار شمار کیےجانے کے کام میں رکاوٹ ڈالنے پر ہے۔

اُنھوں نے بتایا ' ہم نے شناختی کارڈ کو سکین کر کے خاندان کی تفصیلات نکالنے کا انتظام بھی کیا ہوا ہے تو اِس طرح بھی معلومات کی پڑتال ہو سکے گی۔ اِس کے علاوہ فارم عام نہیں بلکہ مشین ریڈایبل فارمز ہیں۔'

مردم شماری کے پہلے مرحلے کے پہلے بلاک میں خانہ شماری 15 سے 17 مارچ ہو گئی جس میں فرام 2 کی تقسیم 18 سے 27 مارچ تک ہو گی اور اس کے بعد بے گھر آبادی کا شمار 28 مارچ کو ہو گا اور فارم 2 کو جمع کرنا اور محفوظ بنانے کا عمل 29-30 مارچ کو ہو گا۔

اس کے بعد پہلے مرحلے کے بلاک 2 میں خانہ شماری 31 مارچ سے 2 اپریل تک، فارم 2 کی تقسیم 12-3 اپریل، بے گھر آبادی کا شمار 13 اپریل، فارم 2 جمع کرنا اور محفوظ بنانا 14 اپریل

دوسرا مرحلہ پہلے کے دس دن کے وقفے 25 اپریل کو شروع ہوکر 25 مئی کو ختم ہو گا۔

خانہ و مردم شماری کیوں ضروری ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مردم شماری ہر 10 سال بعد کرایا جانا اِس لئے ضروری ہے کہ آبادی کی درست تعداد معلوم ہو سکے اور اُس کی بنیاد پر اُن کی نمائندگی یعنی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نشتوں کی تعداد طے کی جا سکے۔ اِس کے علاوہ آبادی کے تناسب سے نیشنل فنانس کمیشن کے ذریعے صوبوں کو فنڈز اور وسائل مہیا کرنا اور سرکاری ملازتوں میں کوٹے بھی اِسی مردم شماری کے اعداد کی بنیاد پر مختص کیے جاتے ہیں۔

1951 میں کی جانے والی پہلی مردم شماری میں پاکستانیوں کی تعداد تین کروڑ 37 لاکھ سے زیادہ تھی جبکہ 1998 میں ہونے والی آخری مردم شماری میں پاکستان کی آبادی 13 کروڑ 23 لاکھ سے زیادہ تھی۔

اِس طرح 47 سالوں کے دوران پاکستان کی آبادی میں نو کروڑ 86 لاکھ بارہ ہزار افراد کا اضافہ ہوا تھا۔ آخری مردم شماری کے مطابق پاکستان میں مرد عورتوں کے مقابلے میں 50 لاکھ زیادہ تھے۔

مردم شماری میں کس کسی کی معلومات حاصل کی جائیں گی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ہر انسان کی معلومات جو 15 مارچ کو پاکستان میں موجود ہے۔سفراء کی معلومات دفترِ خارجہ سے حاصل کی جائیں گی جبکہ پناہ گزینوں کی معلومات کیمپ انتظامیہ سے حاصل کی جائیں گی۔

طریقۂ شمار

معلومات گھر گھر جاکر جمع کی جائے گی۔ جس میں فیلڈ آپریشن (طریقہ کار) کے تحت خانہ و مردم شماری ایک وقت میں ایک ساتھ کی جائے گی۔

اس میں پہلے تین دن خانہ شماری، دس دن مردم شماری اور ایک دن بے گھر آبادی کا شمار

کب کب کیسے کیسے

مردم شماری دو مرحلوں میں تمام صوبوں میں بیک وقت ہو گی جس میں دو فارمز ترتیب دیے گئے ہیں جس میں فارم 1 خانہ شماری اور فارم 2 مردم شماری

کس دن کیا کام کیا جائے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پہلے مرحلے میں بلاک ایک کے تحت خانہ شماری 17-15 مارچ، فارم 2 کی تقسیم 27-18 مارچ، بے گھر آبادی کا شمار 28 مارچ اور فارم 2 جمع کرنا اور محفوظ بنانا 30-29 مارچ تک ہو گا۔

پہلے مرحلے کے دوسرے بلاک کے تحت خانہ شماری 31 مارچ سے 2 اپریل، فارم 2 کی تقسیم 12-3 اپریل، بے گھر آبادی کا شمار 13 اپریل، فارم 2 جمع کرنا اور محفوظ بنانا 14 اپریل تک ہو گا جبکہ دوسرا مرحلہ دس دن کے وقفے کے بعد 25 اپریل کو شروع ہو کر 25 مئی کو ختم ہوگا۔

انتظامی یونٹس

پانچ صوبے، فاٹا، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کو فیز 2-1 میں تقسیم کیا گیا ہے جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں خانہ و مردم شماری 30 مارچ سے شروع ہوکر 23 مئی کو ختم ہوگی۔

خانہ و مردم شماری کو چار یونٹس میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں بلاک 250-200 گھر، سرکل پٹوار، شہری آبادی کا کچھ حصہ، کنٹونمنٹ یعنی 7-5 بلاک، چارج حلقہ، شہری آبادی کا کچھ حصہ، کنٹونمنٹ یعنی 7-5 سرکلز اور ڈسٹرکٹ ضلع، تحصیل، تعلقہ اور کنٹونمنٹ

خانہ و مردم شماری کے لیے افرادی قوت اور کل بجٹ

8 انتظامی یونٹس میں کل 118826 افراد اور دو لاکھ فوجی اہلکار شامل ہوں گے جبکہ کل بجٹ ساڑھے 18 ارب میں سے افواجِ پاکستان کے لیے 6 ارب، سولین کے لیے 6 ارب اور ٹرنسپورٹ کے لیے 6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

نتائج کب آئیں گے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عبوری نتائج 2 ماہ میں سامنے آئیں گے جس میں ضلعی، صوبائی اور قومی سطح پر معمول کی رپورٹس، بڑے شہروں اور منتخب علاقوں پر خصوصی رپورٹس، اہم موضوعات پر مضمون کی مناسبت سے تجزیاتی رپورٹس اور سینسس اٹلس شامل ہیں۔

اسی بارے میں