’پڑھنے لکھنے کا خواب ادھورا رہ گیا‘

پاکستانی بچے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

'میں نے تو ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ میرا یہ خواب اس وقت ٹوٹ گیا جب میرا سکول بغیر بتائے بند کر دیا گیا۔ ہم سکول جاتے مگر اساتذہ نہیں آتے، کئی دن ایسا چلتا رہا اور بلآخر سکول بند کر دیا گیا۔ اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی مجھے نہیں بتایا کہ کیا میں کھبی سکول جا سکوں گی یا نہیں۔ اب تو میری سکول جانے کی عمر بھی نکلتی جا رہی ہے۔'

14 سالہ غزالہ چوتھی جماعت میں تھیں جب ان کے گاؤں رام نگر میں قائم لڑکیوں کا سرکاری سکول بند کر دیا گیا۔ اس علاقے کی لڑکیوں کے لیے یہ واحد سکول تھا جسے انتظامیہ نے آٹھ برس پہلے بند کر دیا۔ پہلے سے خستہ حال سکول کی عمارت اب ایسے ڈھانچے کی مانند ہے جو کسی وقت بھی مکمل منہدم ہو جائے گی۔ گاؤں کی لگ بھگ تمام لڑکیاں ہی اب سکول کی سہولت سے محروم ہیں۔

طالبات کے لیے بائیک ٹو سکول منصوبہ

غزالہ کا شمار ان ڈھائی کروڑ بچوں میں ہوتا ہے جن کے پڑھنے لکھنے کا خواب ادھورا رہ گیا۔ان میں بیشتر کو تو سکول کا منہ کھبی دیکھنا نصیب ہی نہیں ہوا اور بعض کے علاقے میں سکول نہ ہونا یا غربت کی وجہ سے سکول کی فیس کا نہ ہونا ان پڑھ رہنے کی وجہ بن رہی ہے۔

Image caption غزالہ کا سکول 8 برس سے بند ہے اور یہ اس علاقے میں لڑکیوں کا واحد سکول تھا

پاکستان کے آئین کے مطابق تعلیم حاصل کرنا ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور مہیا کرنا حکومت کا فرض۔ تعلیم تو ایک شبعہ ہے تاہم شہریوں کی تمام تر بنیادی سہولیات مہیا کرنے کےسلسلے میں مردم شماری اہم کردار ادا کرتی ہے۔

شہریوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے منصوبہ بندی میں سنجیدہ ریاستیں ہر دس برس کے وقفے کے بعد مردم شماری کراتی ہیں تاکہ اندازوں کی بجائے آبادی کا صحیح تناسب معلوم کیا جا سکے۔

لیکن پاکستان میں مردم شماری ہمیشہ سیاست کی نظر ہوتی رہی ہے ۔ اسی وجہ سے 1998 کے بعد یعنی 19 برس کی تاخیر سے اور وہ بھی سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد آج بدھ کو پاکستان میں مردم شماری کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں

اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تعلیم کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم الف اعلان کے سربراہ مشرف زیدی نے کہا 'ہم آج تک یہ جان ہی نہیں پائے کہ پاکستانی ریاست کے مقاصد ہیں کیا۔ کیا ہم نے جنگیں لڑنا ہے یا ان سے بچنا اس ریاست کے قیام کا مقصد ہے؟ یا اس ملک میں رہنے والے لوگوں کی بہتری کے لیے کام کرنا ریاست کا مقصد ہے؟'

انہوں نے مزید کہا کہ'مردم شماری حکومت کے لیے ایک بہت بڑا موقع ہے کہ وہ یہ معلوم کر سکیں کہ تعلیم سمیت شہریوں کی دیگر بنیادی ضروریات ہیں کیا اور ان کے منصوبہ بندی کیسے کی جائے۔ اگر ہم صرف تعلیم کے حوالے سے بات کریں تو حکومت کو یہ معلوم ہی نہیں کہ ملک میں غیر تعلیم یافتہ افراد کا تناسب ہے کیا؟ ملک کے دیہات یا شہروں میں کتنی آبادی ہے اور کتنے سکولز کالجز درکار ہیں۔ کتنے تکنیکی ادارے، موصلاتی نظام ، بے گھروں کے لیے گھر، یہ سب وہ بنیادی ضروریات ہے جنھیں پورا کرنے کے لیے مردم شماری اہم کردار ادا کرتی ہے۔'

اس سلسلے میں سابق وزیر خزانہ عمر ایوب خان نے کہا کہ'سیاسی جماعتیں اپنے ذاتی سیاسی مفادات کے لیے اب تک مردم شماری کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرتی آئیں ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ'ملک بھر میں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ چاروں صوبوں میں آبادی کتنی بڑھی ہے۔ پھر اس آبادی میں سندھی، پشتون، بلوچی یا پنجابی کتنے ہیں۔ کہاں ہمیں میگا بروجیکٹس چاہیے۔ مرد اور عورت کا تناسب کیا ہے۔ یہ سب وہ معلومات ہے جس کے حاصول کے بعد ہی وسائل کو بہتر طریقے سے شہریوں کے مفاد کے لیے استمعال کیا جا سکتا ہے۔'

آج بدھ سے جاری پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی قومی مردم شماری کا مرحلہ دو ماہ تک جاری رہے گا۔ اس میں ایک لاکھ سے زیادہ سرکاری اور دو لاکھ سے زیادہ فوجی اہلکا حصہ لے رہے ہیں۔

اسی بارے میں