مردم شماری فارم میں معذور افراد کا خانہ بنانے کا حکم

Image caption چیف جسٹس نے ہدایت دی کہ معذور مرد کے لیے 4، معذورعورت کے لیے 5 اور معذور خواجہ سرا کے لیے خانہ نمبر6 کر دیا جائے

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ منصور علی شاہ نے ہدایت کی ہے کہ مردم شماری کے فارم میں فوری ترمیم کی جائے تاکہ بروقت معذور افراد کا اندراج ممکن ہو سکے۔

چیف جسٹس منصور شاہ نے مردم شماری میں معذور افراد کو نظر انداز کرنے سے متعلق کیس کی سماعت اپنے چیمبر میں کی اورمتعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ مردم شماری کے فارم میں بروقت ترمیم کرکے معذوروں کے لیے سروے کے بجائے الگ خانہ بنایا جائے۔

محکمہ شماریات کے جوائنٹ کمشنر اکبرعلی نے چیف جسٹس کو بتایا کہ 15 مارچ سے مردم شماری کا پہلا مرحلہ شروع کیا گیا ہے جس میں گھروں کی گنتی کی جائے گی، اس کے بعد افراد گنے جائیں گے۔

چیف جسٹس منصور شاہ نے کہا کہ ’طویل عرصے کے بعد شروع ہونے والی اس مردم شماری کو کسے صورت نہیں روکا جا سکتا لیکن ہمارے لیے معذور افراد کا تحفظ بھی بہت ضروری ہے، اس لیے اگلے دو روز میں فارم میں نئے خانے بنا کر ان کی تشہیر کی جائے تاکہ مردم شماری میں معذور افراد کا اندراج ممکن ہو سکے۔‘

موجودہ فارم میں مرد کے لیے خانہ نمبر 1، عورت کے لیے 2 اور خواجہ سرا کے لیے خانہ نمبر 3 رکھا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے ہدایت دی کہ معذور مرد کے لیے 4، معذورعورت کے لیے 5 اور معذور خواجہ سرا کے لیے خانہ نمبر6 کر دیا جائےـ

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے شفیق الرحمان کی درخواست پر سماعت کی۔

مدعی کا کہنا تھا کہ رواں سال ہونے والی مردم شماری میں معذوروں کو شمار نہیں کیا جا رہا تاہم معذور افراد سے متعلق ڈیٹا یعنی اعداد و شمار نہ ہونے کے باعث ان کے علاج، سہولیات، کوٹہ سسٹم اور ان سے متعلق فلاحی منصوبوں میں مشکلات پیش آئیں گی۔

اسی بارے میں