پنجاب یونیورسٹی کے خلاف ہتکِ عزت کے مقدمے میں 17 سال بعد طالبہ کی جیت

Image caption وجیہہ عروج کا کہنا تھا کہ ان ابتدائی دنوں میں وہ اس قدر ذہنی اذیت کا شکار ہوئیں کہ ایک مرتبہ ان کے ذہن میں خود کشی کرنے کا خیال بھی آیا

پاکستان میں نظامِ عدل سے انصاف کے حصول میں وجیہہ عروج کو سترہ برس کا عرصہ لگ گیا۔ اب بھی شاید فیصلہ حتمی نہیں ہے۔ پاکستان اور کینیڈا کی دوہری شہریت رکھنے والی وجیہہ عروج نے سترہ برس قبل پنجاب یونیورسٹی لاہور کے خلاف ایک دیوانی عدالت میں ہتکِ عزت کا دعوٰی کیا تھا۔

اس ماہ کی آٹھ تاریخ کو لاہور کی ایک ایپیلیٹ عدالت نے پنجاب یونیورسٹی لاہور کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے لاہور کی دیوانی عدالت میں دائر وجیہہ عروج کی درخواست پر وجیہہ کے حق میں آنے والے فیصلے کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔

درخواست میں وجیہہ عروج نے دعوٰی کیا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی لاہور نے انہیں ایم اے انگریزی کے ایک پرچے میں غلط طور پر غیر حاضر ظاہر کر کے پورے امتحان میں فیل قرار دے دیا تھا۔ ان کے اس اقدام سے نہ صرف معاشرے میں ان کی ہتک ہوئی بلکہ یونیورسٹی کے عملے کی طرف سے مبینہ طور پر ان کی کردار کشی بھی کی گئی۔

ان کا دعوٰی تھا کہ یونیورسٹی کے ایک کلرک نے ان کی موجودگی میں ان کے والد سے یہ کہا تھا کے ’آپ کو کیا معلوم کہ آپ کی بیٹی کیا کرتی رہی تھی۔‘ تاہم عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ وجیہہ عروج کی جانب سے یونیورسٹی کے اس کلرک کے خلاف انفرادی طور پر کارروائی کرنے کا نہیں کہا گیا اور نہ ہی اس جملے کی مزید وضاحت میں شواہد سامنے آ سکے۔

Image caption اب وہ پچھلے دس سال سے کینیڈا کے شہر کنگسٹن میں اپنے خاوند اور تین بچوں کے ساتھ مقیم ہیں

گذشتہ سال لاہور کی ایک دیوانی عدالت نے وجیہہ عروج کی درخواست کو نمٹاتے ہوئے، ان کے مؤقف کو صحیح مانتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی کو انہیں 8 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم اس فیصلے کے خلاف یونیورسٹی نے اپیل دائر کر دی تھی۔

کئی برسوں تک عدالتوں کے چکر کاٹنے کے بعد رواں ماہ عدالتی فیصلہ وجیہہ عروج کے حق میں آ تو گیا ہے مگر اب ان کی عمر 21 برس نہیں بلکہ 38 برس ہے اور ان کے سامنے پاکستان کی سول سروس میں شمولیت کے نہ پورے ہونے والے خواب ہیں۔

اب وہ پچھلے دس سال سے کینیڈا کے شہر کنگسٹن میں اپنے خاوند اور تین بچوں کے ساتھ مقیم ہیں۔ ان کی بڑی بیٹی کی عمر چودہ برس ہے۔ آج سے سترہ برس قبل وہ لاہور میں ایم اے انگریزی کی طالبِ علم تھیں جب پنجاب یونیورسٹی لاہور نے پہلے سال کے امتحانات کے ایک پرچے میں غیر حاضر قرار دے کر انہیں فیل کر دیا تھا جو کہ بعد ازاں عدالت میں غلط ثابت ہوا۔

ایک طرف فیل ہونے کا دھچکہ تو دوسری طرف یونیورسٹی کی جانب سے پرچے سے غیر حاضری کے غلط بیان نے وجیہہ عروج کو ایک خطرناک صورتحال سے دوچار کر دیا۔ انہیں لوگوں کی طرف سے اپنے کردار کے حوالے سے سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

کینیڈا سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وجیہہ عروج نے بتایا کہ جب ان کے سامنے یونیورسٹی کے کلرک نے ان کے والد سے ان سے یہ کہا کہ ’آپ کو کیا پتہ کہ آپ کی بیٹی نے پرچہ دیا بھی تھا یا وہ کہیں اور تھی‘ تو ان کا سر شرم سے جھک گیا۔

’وہ سوال تیر کی طرح لگے مجھے۔ میرے والد صاحب کو مجھے بتاتے ہوئے پسینہ آ رہا تھا اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کہاں چلی جاؤں۔‘

’میں اتنا زیادہ ڈپریشن میں گئی کہ دو دن تک رو رو کے میری حالت بری ہو گئی۔ اپنے تعلیمی کیریئر میں میں کبھی فیل نہیں ہوئی تھی۔ مجھے پتہ تھا کہ میں نے کیسا پرچہ دیا تھا۔ بہت زیادہ اچھا نہیں تو وہ اتنا ضرور تھا کہ میں آرام سے پاس ہو جاتی۔‘

Image caption ایم اے کرنے کے بعد پاکستان کا سول سروس کا امتحان دینا چاہتی تھیں یا ملک سے باہر جا کر مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھیں مگر ان کے دونوں خواب پورے نہیں ہو سکے

وجیہہ عروج کا کہنا تھا کہ ان ابتدائی دنوں میں وہ اس قدر ذہنی اذیت کا شکار ہوئیں کہ ایک مرتبہ ان کے ذہن میں خود کشی کرنے کا خیال بھی آیا۔ ’پھر اپنی امی جو کہ پہلے ہی سے بہت علیل تھیں ان کو مزید دکھ نہ دینے کا سوچ کر میں اس انتہائی قدم اٹھانے سے باز رہی۔‘

ان کا کہنا تھا ان کے خاندان کے افراد نے ان کا بھر پور ساتھ دیا۔ جب انھوں نے اپنے والد صغیر محمد خان جو کہ خود ایک جج رہ چکے ہیں کی پیروی میں ہائی کورٹ لاہور میں یونیورسٹی کے دعوے کو چیلنج کیا تو تقریباٌ چار ماہ بعد یونیورسٹی کے اس وقت کے افسران ان کا پرچہ بھی ڈھونڈ کر لے آئے اور انہیں پاس بھی کر دیا گیا۔

تب تک ان کا کافی نقصان ہو چکا تھا۔ ان چار ماہ کے دوران ان کو جس اذیت سے گزرنا پڑا اور ان کی جو کردار کشی یا ہتک کی گئی اس کے لیے نہ تو تب اور نہ پھر کبھی یونیورسٹی نے ان سے معزرت کی۔ لہٰذا سنہ 2000 میں انھوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور کی خلاف پچیس لاکھ روپے کا ہرجانے کا دعوٰی کر دیا۔

یونیورسٹی اس کے خلاف ہائی کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ آف پاکستان تک گئی مگر ہر جگہ سے اس کی اپیل مسترد ہوتی رہی۔ بالآخر سن 2016 میں دیوانی عدالت نے وجیہہ عروج کے حق میں فیصلہ دیا۔ تاہم عدالت نے ہرجانے کی رقم 25 لاکھ سے کم کر کے آٹھ لاکھ تک کر دی۔

پنجاب یونیورسٹی نے اس فیصلے کو پھر سے اپیل کورٹ میں چیلنج کیا جس کا فیصلہ رواں ماہ میں پھر سے ان کے خلاف آیا۔ تاہم اب بھی یونیورسٹی اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا حق رکھتی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ جیسے ہی ان کو عدالتی فیصلے کی کاپی وصول ہوتی ہے تو وہ دیکھیں گے کہ اگر طالبہ حق پر ہے تو وہ لازماٌ عدالتی حکم پر عملدرآمد کریں گے۔ تاہم اگر ان کو لگا کہ اس میں یونیورسٹی حق پر ہے تو وہ اس کو اگلے فورم پر کنٹسٹ کریں گے۔

اسی بارے میں