خیبر پختونخوا اور فاٹا میں سکیورٹی اہلکاروں پر حملے، تین اہلکار اور آٹھ شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دو خود کش حملہ آوروں نے شبقدر میں فرنٹیئر کانسٹبلری کے ٹریننگ سنٹر میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر وہاں موجود اہلکاروں نے ان پر فائرنگ کی

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں شبقدر کے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ٹریننگ سنٹر پر خود کش حملے کے کوشش میں ایک اہلکار ہلاک جبکہ پاک افغان سرحد پر افغانستان کی جانب سے شدت پسندوں کے حملے میں فرنٹیئر کور کے دو اہلکار اور جوابی کارروائی میں چھ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

ضلع چارسدہ کے پولیس افسر سہیل خالد نے بتایا کہ دو خود کش حملہ آوروں نے شبقدر میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ٹریننگ سنٹر میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر وہاں موجود اہلکاروں نے ان پر فائرنگ کی ہے جس میں ایک خود کش حملہ آور ہلاک جبکہ دوسرے نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق پولیس کے مطابق اس حملے میں فرنٹییر کانسٹیبلری کے ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اس حملے میں دو اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں لیکن اب تک سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

شبقدر سے ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ حملہ آوروں کی تعداد تین ہو سکتی ہے اور ایک ان میں سے روپوش ہے جس کی تلاش میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی تاہم پولیس کا کہنا تھا کہ علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور مزید کارروائی جاری ہے۔

شبقدر کا یہ علاقہ پشاور سے تقریباً پچیس کلومیٹر دور مچنی روڈ پر واقع ہے۔

ادھرپاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں پاک افغان سرحد پر لوئے شلمان کے علاقے میں افغانستان کی جانب سے شدت پسندوں نے فرنٹیئر کور کی چوکی پر حملہ کیا ہے جس میں دو اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔ یہ حملہ سپینہ شوکہ کے مقام پر کیا گیا ہے جس پر سیکیورٹی اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی ہے جس میں چھ شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Frontier Constabulary
Image caption پاک افغان سرحد پر لوئے شلمان کے علاقے میں فرنٹیئر کور کی چوکی پر حملہ کیا ہے جس میں دو اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں

فوج کے تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں نے افغانستان کی جانب سے پاکستان کی حدود میں ایف سی کی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا جس کے بعد انھوں نے جوابی کارروائی کی ہے۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ حملہ نیم شب کے وقت کیا گیا جس کے جوابی کارروائی میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بھاری ہتھیاروں سے بمباری کی گئی ہے۔

دوسری جانب پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ایک تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ خیبر ایجنسی میں ’کل رات وادی راجگال میں دھشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائی کی گئی جس میں متعدد شدت پسند ہلاک ہوئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائی کالعدم لشکر اسلام کے سرغنہ منگل باغ کی موجودگ کی اطلاع پر کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ ادھر پشاور کے علاقے تہکال میں گزشتہ رات پولیس کی گاڑی پر نا معلوم افراد نے فائرنگ کی تھی جس میں ایک اہلکار اور ایک حملہ آور ہلاک ہوئے ہیں۔ حملہ آور موٹر سائکل پر سوار تھے اور انھوں نے گشت پر معمور پولیس کی گاڑی پر شدید فائرنگ کی ہے۔

ان تینوں حملہ کی زمہ داری شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے جماعت الاحرار کے ترجمان نے اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حملے ان کے غازی مہم کا حصہ ہیں۔

اسی بارے میں