پاکستان: مردم شماری میں ’فوج کا کردار آئینی نہیں ضرورت‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان میں ہونے والی موجودہ مردم شماری میں ملک کی فوج کا بہت اہم کردار ہے

جنوبی ایشیا میں اہم ملک سمجھے جانے والے پاکستان کو موجودہ صورتحال میں جب بھی کسی بڑے منصوبے پر کام شروع کرنا ہوتا ہے تو وہ اپنی فوج کی مدد ضرور حاصل کرتا ہے۔ چاہے معاملہ ملک میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کا ہو یا چین پاکستان اقتصادی راہداری کی سکیورٹی کا، ملک میں کرکٹ کی لیگ کا فائنل منعقد کرانا ہو یا پھر خانہ و مردم شماری، غرض فوج ہر چیز کا علاج ہے۔

بارہ مارچ کو پاکستان کی وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران اِس بات کو تسلیم کیا کہ 'مارچ 2016 میں افواجِ پاکستان ملک میں دہشتگردی کے خلاف تاریخی جنگ میں خاصی مصروف تھی، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ہو رہا تھا اور کراچی آپریشن جاری تھا اِس لیے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں مردم شماری کو ملتوی کیا گیا۔'

بدھ سے شروع ہونے والی خانہ و مردم شماری 25 مئی تک جاری رہے گی اِس دوران گھر گھر جا کر معلومات جمع کرنے والے فرد کو ایک فوجی اہلکار کی مدد بھی حاصل ہوگی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اِس مردم شماری میں گھر گھر جاکر معلومات حاصل کرنے والے سویلئن عملے کے مقابلے میں فوجی اہلکاروں کی تعداد زیادہ ہے۔

Image caption اگر یہ کہا جائے کہ دراصل معلومات کا اندراج ایک نہیں بلکہ دو فارمز پر ایک ہی وقت میں ہو رہا ہوگا تو غلط نہ ہوگا

افواجِ پاکستان کی مدد سے کرائی جانے والی یہ پہلی مردم شماری نہیں ہے بلکہ 1998 میں بھی پاکستانی فوج کے ڈھائی لاکھ اہلکاروں نے اِس کام میں مدد فراہم کی تھی لیکن وہ مردم شماری ایک ہی مرحلے میں کرائی گئی تھی۔

اِس مرتبہ جب مردم شماری کی بات چلی تو یہ تجویز بھی افواجِ پاکستان کے متعلقہ حلقوں کی جانب سے پیش کی گئی کہ موجودہ صورتحال میں اِس پورے عمل کو دو مرحلوں میں کرایا جائے۔ اِس بات کی تصدیق بھی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کر چکے ہیں۔رواں سال مردم شماری میں جیسے پاکستان ادارہ برائے شماریات کا انتظامی ڈھانچہ ہے ویسے ہی افواجِ پاکستان نے اپنا بھی ایک علیحدہ انتظامی ڈھانچہ بنایا ہے۔ گھر گھر جاکر معلومات حاصل کرنے والے فرد کے ساتھ ایک فوجی اہلکار تعینات کیا جا رہا ہے۔ اِس کے علاوہ سرکل کی سطح پر فوج کا ایک سینسس سپورٹ آفیسر، اِس سے اوپر چارج سپورٹ ٹیم ہوگی اور اِس سے اوپر ضلعی سطح پر سینسس سپورٹ سیل قائم کیا جا رہا ہے جس کی نگرانی ڈویژن اور صوبائی سطح پر کی جایے گی۔ اِن سب کا مرکز ہوگا ہیڈ کوارٹر آرمی ایئر ڈفینس کمانڈ راولپنڈی۔ اِن تمام پرتوں کا مقصد مردم شماری کے عمل کو رواں رکھنا، اُس کے دوران سکیورٹی کو یقینی بنانا اور پورے عمل کو شفاف بنانا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہر ایک سویلیئن ملازم کے ساتھ ایک فوجی اس کی مدد کر رہا ہے

گھر گھر جاکر معلومات اکھٹی کرنے کے عمل میں فوجی اہلکار کا کردار یہ ہوگا کہ وہ براہ راست معلومات تو نہیں لے گا لیکن عملے کے جس فرد کو معلومات دی جا رہی ہوں گی وہ اُن معلومات کا اندراج فوج کے علیحدہ فارم میں بھی کرائے گا اور اُس فوجی اہلکار کا نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی یا نادرا سے مستقل رابطہ قائم ہوگا۔ وہ اہلکار جن معلومات کی پڑتال کرنا چاہے گا فوری کر سکے گا۔

اگر یہ کہا جائے کہ دراصل معلومات کا اندراج ایک نہیں بلکہ دو فارمز پر ایک ہی وقت میں ہو رہا ہوگا تو غلط نہ ہوگا۔ فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ یہ کہہ چکے ہیں کہ ’دیکھنے میں یہ آپ کو ایک سپاہی نظر آئے گا لیکن حقیقت میں وہ پوری فوج کی سپورٹ کے ساتھ ہوگا۔ جو ہمارا ایک چین سسٹم ہے سپاہی سے لے کر اوپر تک وہ پورا وہاں موجود ہوگا۔‘

پاکستان کے چیف سینسس کمشنر آصف باجوہ کے مطابق مردم شماری کے لیے فوج کی موجودگی آئینی نہیں بلکہ وقت کی ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مردم شماری کے لیے فوج کی موجودگی آئینی نہیں بلکہ وقت کی ضرورت ہے

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے جن پانچ بیماریوں کو اِس مردم شماری میں شامل کرنے کی تجویز دی تھی اُسے اور معذوری سے متعلق انداراجات کو بھی صرف اِس لیے مردم شماری کا حصہ نہیں بنایا گیا کہ زیادہ سوالات کی صورت میں وقت زیادہ لگتا اور اتنے طویل وقت کے لیے افواجِ پاکستان کے اہلکاروں کو اِس کام میں مصروف نہیں رکھا جاسکتا البتہ معذوری اور زبانوں اور بیماریوں کا شمار آئندہ سروے کی صورت میں کیا جائے گا جس کا ذکر فارم ٹو اے میں کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں