کشیدگی کا شکار پاک افغان تعلقات بہتر بنانے سے متعلق اقدامات پر اتفاق

تصویر کے کاپی رائٹ AKHTER GULFAM
Image caption دونوں ملکوں کے درمیان سرحد کھلنے کی امید کی جا رہی ہے

برطانوی حکومت کی میزبانی میں 15 مارچ کو لندن میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے پر اقدامات پر اتفاق ہو گیا ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد دہشت گردی سے نمٹنے پر تعاون پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

اس کانفرنس میں دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیر شامل تھے۔ کچھ ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ملک کشیدگی کا خاتمہ کر کے اپنی سرحدوں کو کھول دیں گے۔

ادھر پاک افغان سرحد کے بارے میں پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آج نہیں تو کل سرحد کو کھول دیا جائے گا

تصویر کے کاپی رائٹ Muhammad Sajjad
Image caption پاکستان نے اس ماہ کے آوائل میں 48 گھنٹوں کے لیے عارضی طور پر سرحد کھولی تھی

انکا کہنا تھا کہ قومی سلامتی اور خارجی امور پر وزیرِ اعظم کے مشیر سرتاج عزیز، جو اس وقت دولتِ مشترکہ کے ایکشن گروپ کے اجلاس میں شرکت کے لیے لندن کے دورے پر ہیں ' افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر کے ساتھ اس مسئلے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

پاکستان نے اس ماہ کے آوائل میں 48 گھنٹوں کے لیے عارضی طور پر سرحد کھولی تھی تاکہ وہاں پھنسے 35 ہزار افغانیوں کو واپس وطن جانے کا موقع مل سکے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے عام لوگ چاہیں گے کہ اس اہم کانفرنس کی کامیابی کا اثر دونوں ملکوں کے درمیان باہمی امن اور عوام کی بہبود کی شکل میں نظر آئیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ جن باتوں پر اتفاق ہوا ہے انکے نفاذ سے دونوں ملکوں کے درمیان امن اور اعتماد کو فروغ ملے گا۔

اسی بارے میں