’لڑائی جھگڑے پر بھی مٹی پاؤ کی پالیسی‘

مراد سعید تصویر کے کاپی رائٹ Murad Saeed Facebook

قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی جماعت کے رکن جاوید لطیف اور حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے مراد سعید کے درمیان ہونے والے جھگڑے کی بازگشت جمعرات کو بھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں سنائی دی۔

فرق صرف اتنا تھا کہ پہلے نہ تو یہ ارکان اسمبلی اپنے منہ سے ایک دوسرے کے خلاف نکلے ہوئے الفاظ واپس لینے کو تیار تھے اور نہ ہی ایک دوسرے کو معاف کرنے کو تیار دکھائی دیتے تھے۔

’ایسی باتوں پر تو قتل ہو جاتے ہیں‘

ایک دوسرے کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے والے دونوں ارکان اپنی اپنی نشستوں پر مطمئن ہوکر بیٹھے ہوئے تھے۔

جاوید لطیف نے پوائنٹ آف ارڈر پر کھڑے ہوکر مراد سعید اور اُن کے خاندان کے خلاف کہے گئے الفاظ نہ صرف واپس لیے بلکہ اپنے رویے پر شرمندگی کا بھی اظہار کیا۔

مراد سعید نے اپنے رویے کی معافی تو نہیں مانگی تاہم اُنھوں نے دین سے متعلق باتیں کرنا شروع کردیں کہ اگر برائی کو دیکھو تو اسے پہلے ہاتھ سے روکو اور اگر ایسا نہیں کر سکتے تو اس کو برا جانو اور اگر یہ بھی نہیں ہوتا تو پھر اس کو دل سے برا جانو۔

دونوں اراکین کے درمیان جب لڑائی جھگڑے کا معاملہ افہام تفہیم سے حل ہوا تو اس وقت دنوں جماعتوں کی سینئیر قیادت ایوان میں موجود نہیں تھی۔

قومی اسمبلی کے سپیکر نے دو روز قبل ایک جرگہ تشکیل دیا جس میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ اور شاہ جی گل آفریدی کے علاوہ قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی بھی شامل تھے۔

اس سے پہلے قومی اسمبلی کے سپیکر نے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی جنھوں نے اپنی پہلی ہی نشست میں تمام واقعات کا جائزہ لینے کے بعد جاوید لطیف کی قومی اسمبلی کی رکنیت آٹھ روز کے لیے جبکہ مراد سعید کی رکنیت دو روز کے لیے معطل کرنے کی سفارش کی تھی۔

میڈیا سمیت سیاست دان بھی اس بات کے منتظر تھے کہ قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کب اس کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے ان دونوں ذمہ داروں کو سزا سناتے ہیں۔

سزا سنانا تو دور کی بات اس سے پہلے ہی سپیکر نے ایک جرگہ تشکیل دے دیا جنھوں نے ایک دو نشتوں میں ہی اس معاملے کو حل کروا دیا۔

ارکان پارلیمنٹ میں یہ موضوع زیر بحث رہا کہ اگر قومی اسمبلی کے سپیکر نے جرگہ ہی تشکیل دینا تھا تو پھر اس معاملے پر پارلیمانی کمیٹی بنانے کی کیا ضرورت تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ارکان پارلیمنٹ میں یہ موضوع زیر بحث رہا کہ اگر قومی اسمبلی کے سپیکر نے جرگہ ہی تشکیل دینا تھا تو پھر اس معاملے پر پارلیمانی کمیٹی بنانے کی کیا ضرورت تھی۔

اس کے علاوہ اس کمیٹی نے جو سفارشات دی تھیں اگراس کو کوئی اہمیت نہیں دینا تھی تو پھر اس کمیٹی کے ارکان کو سفارشات تیار کرنے کا کیوں کہا گیا۔

قومی اسمبلی کی راہداری میں اراکین اسمبلی کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ حکومت نے دیگر معاملوں کی طرح لڑائی جھگڑے کے معاملے پر بھی ’مٹی پاؤ‘ کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے جو خود اس کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے بیان پر پارلیمانی کمیشن بنانے کی باتیں آج بھی اراکین اسمبلی نے کیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھی اس پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تاہم اس صورت حال کو بھانپتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان کی ایک قابل ذکر تعداد قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں تھی۔

اسی بارے میں