سیاسی جماعتوں کا فوجی عدالتوں میں دو برس کی توسیع پر اتفاق

قومی اسمبلی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے فوجی عدالتوں کی مدت میں دو سال کی توسیع پر رضامندی ظاہر کر دی ہے اور ترمیمی بل کل جمعے کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کردیا جائے گا۔

پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے پیش کیے گئے 9 نکات میں سے 4 نکات تسلیم کر لیے گئے ہیں جس میں کسی بھی ملزم کو گرفتار کرنے کے 24گھنٹوں میں عدالت میں پیش کرنے کے علاوہ ملزم کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ اُنھیں کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔

فوجی عدالتیں کتنی مؤثر؟

فوجی عدالتوں میں توسیع پر تنازع کیا؟

ان نکات میں ملزم کو مرضی کا وکیل کرنے اور فوجی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات میں قانون شہادت پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔

اس سے پہلے گذشتہ اجلاس میں حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ سیاسی جماعتیں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع پر متفق ہوگئے ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اس ضمن میں اپنے 9 نکات واپس لے لیے ہیں جس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے پارلیمانی رہنماوں کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل سکیورٹی کے معاملات کو دیکھنے کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے بھی قانون سازی سے متعلق ایک ترمیم ایوان میں پیش کی جائے گی جس کامقصد نہ صرف فوجی عدالتوں میں ہونے والی کارروائی کو دیکھنا بلکہ قومی سلامتی کےدیگر امور پر بھی نظر رکھنا ہوگا۔

قومی اسمبلی کے سپیکر کا کہنا تھا کہ نیشنل سکیورٹی کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی کے ارکان ں پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں کے پارلیمانی رہنما ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حوالے سے اکیسویں آئینی ترمیم میں مذہب کے بارے میں جمعت علمائے اسلام ا ور جماعت اسلامی کو جو تحفظات تھے اُن کو دور کرنے کے لیے ان جماعتوں کے رہنماؤں سے بھی بات چیت کی جائے گی۔

سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ کل جمعہ 17مارچ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں ترمیمی بل پیش کردیا جائے گا جس کے بعد پیر کو پارلیمانی رہنما اس پر اظہار خیال کریں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ اُسی روز ہی اس بل پر رائے شماری کروائی جائے گی جس کے بعد اس آئینی ترمیم کو منظوری کے لیے سینیٹ کو بھجوا دیا جائے گا۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی پر عمل کیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے اس لیے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع ضروری تھی۔

حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اُنھیں امید ہے کہ یہ بل سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال نہیں ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران عدالتی نظام میں بہتریاں لائی جائیں گی تاکہ پھر فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی ضرورت نہ پڑے۔

اسی بارے میں