’خانہ شماری میں معلومات کے اندراج کے لیے پینسل کی اجازت نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان میں بدھ کو نو برس کے التوا کے بعد مردم شماری کا آغاز ہوا ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کمشنر آفس کی جانب سے ملک میں جاری خانہ شماری کے سلسلے میں ایک خط جاری کیا گیا ہے جس میں خانہ شماری کرنے والوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ فارم میں کسی بھی قسم کا اندراج پینسل سے نہیں کریں۔

یہ خط ایڈیشنل کمشنر کراچی فرحان غنی خان نے کمشنر کراچی کے جانب سے جاری کیا ہے جس میں خانہ و مردم شماری کے عملے کو تاکید کی گئی ہے کہ فارم الف میں پینسل سے اندراج کی اجازت نہیں ہے اور بیورو آف سینسس کی جانب سے اس ضمن میں جاری سامان میں پینسل شامل نہیں ہے۔ اس لیے تمام ذمہ داران اس امر کو یقینی بنائیں کے پینسل کا استعمال نہیں کیا جائے بصورتِ دیگر مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مردم شماری میں فوج کا کردار

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سال کے التوا کے بعد مردم شماری کا آغاز

یاد رہے کہ 15 مارچ سے شروع ہونے والی خانہ شماری کے پہلے ہی روز کراچی کے مختلف علاقوں سے مذکورہ فارم پینسل سے بھرے جانے کی شکایات موصول ہوئی تھیں۔

اس بابت کمشنر کراچی آفس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کوئی خاص مسئلہ نہیں ہے کیونکہ 15 سے 17 مارچ تک صرف خانہ شماری یعنی گھروں کا اندراج کیا جا رہا ہے جس کا نمبر تمام مکانات پر بھی لکھا جا رہا ہے جو ظاہر ہے کہ پینسل سے نہیں لکھا جا رہا ، اس لیے جو فارم پینسل سے بھر لیے گئے ہیں ان میں کسی قسم کا رد و بدل ممکن نہیں۔

مردم شماری کا باقاعدہ آغاز 18 مارچ سے ہوگا میں ہرگھر کے تمام افراد کے کوائف درج کیے جائیں گے۔

انہوں نے واضع کیا کہ صرف چند مقامات سے ایسی شکایات موصول ہوئی تھیں جس کا فوراً ہی تدارک کر لیا گیا ہے اور مزید وضاحت کے لیے لکھ کر بھی دے دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں