سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان بھارت مذاکرات بحال

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت اور پاکستان کے درمیان دو سال سے سندھ طاس معاہدے کے تحت مذاکرات نہیں ہوئے ہیں

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں اڑی سیکٹر میں فوجی اڈے پر حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان انڈس واٹر کمشنر کی سطح پر معطل کیا جانے والا مذاکراتی عمل اس ماہ کی 20 اور 21 تاریخ کو لاہور میں دو روزہ بات چیت سے بحال کیا جا رہا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ستاون سال پرانے سندھ طاس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے انڈس واٹر کمشنر کے درمیان سال میں ایک ملاقات ہونا لازمی ہے، لیکن ستمبر 2016 میں بھارت نے اڑی کے فوجی اڈے پر دہشت گردوں کے حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے اس معاہدے کے تحت ہونے والے مذاکرات کے عمل کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

٭ سندھ طاس معاہدہ:’ورلڈ بینک تنازع کے حل میں مرکزی کردار ادا کرے‘

٭ پاکستان اور انڈیا آبی تنازع جنوری تک حل کرنے کی مہلت

پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر آصف بیگ مرزا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس ملاقات کی تصدیق کی اور کہا کہ آخری مرتبہ ان کے اور بھارت کے واٹر کمشنر کے درمیان مئی 2015 میں ملاقات ہوئی تھی۔

بھارت کے انڈس واٹر کمشنر پی کے سکسینا کے دفتر سے رابط کرنے پر ان کے عملے نے بتایا کہ 'صاحب لاہور میں چند دن بعد ہونے والے مذاکرات کی تیاری میں مصروف ہیں۔' پی کے سکسینا کے دفتر کے عملے کے ایک رکن نے کہا کہ اس معاملے پر بات کرنے کے لیے آپ سیکریٹری واٹر اینڈ پاور امرجیت سنگھ سے بات کریں۔ لیکن سیکریٹری نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

اڑی حملے کے بعد ستمبر 2016 میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی زیرِ صدرات ہونے والے ایک اہم اجلاس میں پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کے تحت ہونے والے مذاکرات کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اہم اجلاس میں بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے بھی شرکت کی تھی۔

اس وقت نریندر مودی کی طرف سے یہ بیان بھی سامنے آیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ 'خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔' بھارتی حکومت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ ستاون سالہ پرانے اس معاہدہ کو ختم کرنے کی دھمکیاں بھی سامنے آئی تھیں۔

یاد رہے کہ بھارت کی طرف سے دریائے نیلم کے پانی پر 330 میگاواٹ کشن گنگا اور دریائے چناب کے پانی پر 850 میگا واٹ رتلے پن بجلی منصوبے تعمیر کر رہا ہے۔ ان دونوں منصوبوں پر پاکستان نے اعتراضات اٹھائے ہیں اور ان منصوبوں پر پاکستان کی طرف سے ورلڈ بینک کو ثالتی کرنے کے لیے رجوع بھی کیا جا چکا ہے۔

پاکستان کی طرف سے ان دونوں منصوبوں پر ثالثی کے لیے کردار ادا کرنے پر ورلڈ بینک کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کو یہ تنازع انڈس واٹر کمشنر کی سطح پر حل کرنا چاہیے۔ ورلڈ بینک نے دونوں ملکوں کو یہ معاملہ حل کرنے کے لیے مہلت دی تھی جو اس برس جنوری میں ختم ہو گئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے نے بھارتی حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ بھارت نے حالیہ مہینوں میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں چھ ہائیڈرو پاور منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کر دی ہے اور ان منصوبوں کی مجموعی مالیت پندرہ ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سندھ طاس معاہدے کے تحت آخری مرتبہ دونوں ملک کے درمیان مذاکرات مئی 2015 میں ہوئے تھہ

ان منصوبوں میں سب سے بڑا منصوبہ اٹھارہ سو چھپن میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا سوالکوٹ پلانٹ بھی شامل ہے ۔

روائٹرز سے بات کرتے ہوئے بھارتی وزارتِ بجلی کے ایک اعلی اہلکار پردپ کمار پجاری نے کہا کہ یہ خالصتہً بجلی پیدار کرنے کے منصوبے نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان منصوبوں کی نوعیت دفاعی اور سرحدی انتظام جیسے اہم معاملات سے بھی ہے اور ان سب معاملات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہی پیسہ مختص کیا جاتا ہے۔

پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر آصف بیگ مرزا نے کہا کہ بیس اور اکیس کو ہونے والے مذاکرات میں وہ بھارت کے انڈس واٹر کمشنر سے ان منصوبوں کی تفصیلات طلب کریں گے اور اس کے بعد ہی اپنے موقف کا اظہار کریں گے۔

روائٹر نیوز ایجنسی نے پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا کے حوالے سے کہا کہ 'لگتا ہے کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی اہمیت کا احساس ہو گیا ہے اور اسی وجہ سے اس نے مذاکرات کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔'

ان منصوبوں سے بھارت کو دریائے چناب سے حاصل ہونے والی بجلی کی مجموعی پیداوار دگنی ہو جائے گی۔ اس وقت متنازع کشمیر میں چناب پر ہائیڈور پاور پراجیکٹس سے بھارت تین ہزار میگا واٹ بجلی حاصل کر رہا ہے۔

امریکی سینیٹ کی امور خارجہ کی کمیٹی نے سنہ دو ہزار گیارہ میں اپنی ایک رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ بھارت ان منصوبوں کے ذریعے ان دریاوں سے پاکستان کو حاصل ہونے والے پانی کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ ان منصوبوں کو مجموعی نتیجہ یہ نکلے گا کہ پاکستان کو جانے والے پانی روک کر بھارت ذخیرہ کر سکے گا اور پاکستان کی زراعی پیدوار کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں