توہین آمیز مواد پر حکومت کو آرٹیکل 19 کی مہم میڈیا پر چلانے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں کے بارے میں توہین آمیز مواد کی اشاعت کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے حکومت کو آرٹیکل 19 کی مہم تمام پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر چلانے کا حکم دے دیا ہے۔

دوسری جانب پکستانی وزارتِ داخلہ نے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد تک ہٹانے کے لیے فیس بُک کی انتظامیہ نے ایک وفد پاکستان بھجوانے پر رضامندی کا اظہار کیا کیا ہے۔

پاکستانی آئین کا یہ آرٹیکل اظہار رائے کی آزادی سے متعلق ہے جس میں ریاستی اداروں اور مقدس ہستیوں کے بارے میں توہین آمیز اور گستاخانہ الفاظ کہنے یا لکھنے کو قابل گرفت جرم قرار دیا گیا ہے اور جرم ثابت ہونے پر اس کی سزا عمر قید، سزائے موت اور جرمانہ قرار بھی رکھا گیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی ٹیم میں انٹر سروسز انٹیلی جنس کے افسران کو بھی شامل کرنے کا حکم دیا ہے۔

سٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ایک الگ سے کمیٹی بنائی جائے جس میں سیکریٹری اطلاعات، چیئرمین پیمرا اور ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل کو بھی شامل کیا جائے جو مارننگ شوز، ٹاک شوز اور ٹی وی پر نشر ہونے والے مواد کا جائزہ لے۔

اس معاملے کی تحقیقات کرنے والے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا کہ ابھی تک ایسے70 افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جو سوشل میڈیا پر مقدس ہستوں کے بارے میں توہین آمیز مواد کی اشاعت کے ذمہ دار ہیں۔

عدالت نے ایف آئی اے کے اہلکار سے کہا کہ وہ کہانیاں نہ سنائیں بلکہ یہ بتائیں کے اب تک کتنے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جس پر ایف آئی اے کے اہلکار کا کہنا تھا کہ ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ عدالت سویلین اداروں پر اعتماد کرنا چھوڑ دیں اور عسکری اداروں کی خدمات حاصل کی جائیں۔

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ جن افراد کی نشاندہی کی گئی ہے ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے فیس بک کی انتظامیہ کو لکھا ہے تاہم ابھی تک اُن کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

اُنھوں نے کہا کہ انٹرپول میں بھی سائبر ونگ ہے اور اس سے بھی اس ضمن میں رابطہ کیا گیا ہے۔

عدالت نے نبوت کا دعویٰ کرنے والے ناصر سلطانی کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے عدالت میں موجود پیمرا کے چیئرمین ابصار عالم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'آپ سے بہت زیادہ توقعات تھیں، آپ بتائیں جو کچھ چینلز پر چل رہا ہے وہ آپ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ سکتے ہیں؟'

پیمرا کے چیئرمین کے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ وہ عدالت کو نااُمید نہیں کریں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ تمام انڈین چینلز، انڈین ڈرامے اور ہندی ڈبنگ والے پروگرام بند کر دیے گئے ہیں۔ ان درخواستوں کی سماعت 22 مارچ تک کے لیے ملتوی کرد ی گئی

گستاخانہ مواد: 'فیس بُک کا وفد پاکستان آئے گا'

پاکستانی وزارتِ داخلہ نے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد تک ہٹانے کے لیے فیس بُک کی انتظامیہ نے ایک وفد پاکستان بھجوانے پر رضامندی کا اظہار کیا کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مختلف مذہبی جماعتوں اور گروہوں کی جانب سے گستاخانہ مواد پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے 14 مارچ کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پرگستاخانہ مواد کو ہٹانے اور اس کا راستہ روکنے کے لیے فوری طور پر موثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اس سے قبل 8 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستانی حکام کو سوشل میڈیا پر موجود تمام مذہب مخالف اور توہین آمیز مواد فوراً بلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔

وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فیس بُک نہ صرف ان معاملات پر بات چیت کے لیے اپنا وفد پاکستان بھجوانے پر رضامند ہے بلکہ فیس بُک کی جانب سے اس معاملے پر مسلسل رابطے کے لیے ایک فوکل پرسن نامزد کر دیا گیا ہے۔

فیس بُک نے پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کی جانب سے لکھی گئے خط کے جواب میں کہا ہے کہ ہے کہ وہ 'گستاخانہ مواد کے حوالے سے حکومت پاکستان کے تحفظات سے آگاہ ہیں اور باہمی مشاورت اور ڈائیلاگ سے مسئلے کا حل نکالنا چاہتے ہیں'۔

خیال رہے کہ پاکستان میں ماضی میں بھی توہین آمیز مواد کی موجودگی پر مختلف ویب سائٹس پر بندش لگائی جا چکی ہے۔

سنہ 2012 میں پیغمبرِ اسلام کے بارے میں قابلِ اعتراض فلم 'انوسنس آف مسلمز' کی جھلکیاں دکھانے پر دنیا کی مقبول ترین ویڈیو سٹریمنگ ویب سائٹ یو ٹیوب پر پاکستان میں پابندی لگا دی گئی تھی اور تقریباً چالیس ماہ کی بندش کے بعد جنوری 2016 میں اسے اس وقت بحال کیا گیا تھا جب یوٹیوب نے پاکستان کا مقامی ورژن لانچ کیا تھا۔