اگر میری دیانت داری پر شک ہے تو مجھ سے پوچھ گچھ کریں: برنڈ ہلڈن برانڈ

برانڈ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برنڈ ہلڈن برانڈ نے کہا کہ 'گذشتہ سال مارکیٹ میں طیاروں کی لیز کے ریٹ بہت مہنگے تھے کیونکہ طیاروں کی مانگ بہت زیادہ تھی‘

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر برنڈ ہلڈن برانڈ نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔

برنڈ ہلڈن برانڈ نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات اور طیارے کی لیزنگ کے بارے میں تحقیقات کے حوالے سے بی بی سی سے بات کی اور کہا کہ ان اداروں کی تفتیش سے واضح ہوتا ہے کہ انھیں 'طیاروں کی لیزنگ کے بارے میں معلومات بالکل نہیں ہیں تو ان کو یہ سب بیٹھ کر سمجھائی جا سکتی ہیں بہ نسبت اس بات کے کہ ان کا میڈیا ٹرائل کیا جائے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'حکومت کے پاس اختیار ہے کہ وہ اخراجات پر نظر رکھے اور اگر انھیں میری دیانت داری پر شک ہے تو وہ مجھ سے پوچھ گچھ کریں مگر اس طرح انھیں بتائے بغیر ان کی بدنامی کرنا شرمناک ہے۔'

یاد رہے کہ گذشتہ روز وزیرِداخلہ چوہدری نثار علی خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ انھوں نے سی ای او پی آئی اے کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا ہے اور پی آئی اے کی پریمیئر سروس کے لیے حاصل کیے جانے والے طیارے کی لیز کے حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

گذشتہ سال وزیراعظم پاکستان نے پی آئی اے کی پریمیئر سروس کا افتتاح 14 اگست کو کیا تھا جسے برینڈ نواز شریف بنا کر پیش کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PIA

پریمیئر سروس کے ناقدین نے اُس وقت حکومت کے اس منصوبے کو غیر دانشمندانہ قرار دیا تھا اور چھ مہینے کے اندر اس سروس کے نتیجے میں پی آئی اے کو تین ارب روپے کے لگ بھگ نقصان پہنچا۔

اس پر بی بی سی نے اُن سے سوال کیا کہ کیا ان نقصانات کا احاطہ نہیں کیا گیا اور کیا ایک طیارہ لیز کرنا صرف ان کے ہاتھ میں تھا؟

برنڈ نے جواب دیا کہ 'طیارے کی لیز کے وقت وہ سی ای او نہیں تھے اور سارے معاملات پی آئی اے کے بورڈ کے سامنے پیش کیے گئے جس میں بحث کی گئی اور ان کی منظوری بورڈ نے دی تھی۔ اس طیارے کی لیز کا ٹینڈر شائع کیا گیا تھا جس پر حکومت سے بھی بات کی گئی اور ٹینڈر دنیا کے سامنے تھا۔ حتیٰ کہ یہ وزیراعظم کو بھی پیش کیا گیا تھا۔'

وزیرِ داخلہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پی آئی اے نے یہ طیارہ آٹھ ہزار ڈالر فی گھنٹہ سے زیادہ پر سری لنکن ایئر لائنز سے حاصل کیا جبکہ ایک مقامی فضائی کمپنی نے وہی طیارہ چار ہزار ڈالر فی گھنٹہ لیز پر حاصل کیا۔

برنڈ ہلڈن برانڈ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 'اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ لیزنگ کے حوالے سے تحقیاتی ادارے کی معلومات کس قدر ہیں کیونکہ یہ موازنہ سیب کا کیلے کے ساتھ کرنے کے مترداف ہے۔'

برنڈ نے کہا کہ پی آئی اے کی مانگ یہ تھی کہ 'اسے نیا یا تقریباً نیا طیارہ ملے جس کی اندر وہ تمام سہولیات ہوں جو جدید طیاروں میں موجود ہیں جیسے وائی فائی، فلیٹ بیڈ سیٹیں، انٹرنیٹ وغیرہ ہیں۔ تو یقیناً اس طرح کے طیارے کی لیز کی قیمت ایسے طیارے کے مقابلے میں زیادہ ہو گی جو کہ دس سال پرانا ہو اور اس میں یہ سب سہولیات نہیں ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پریمیئر سروس کے ناقدین نے حکومت کے اس منصوبے کو غیر دانشمندانہ قرار دیا تھا

برنڈ سے جب پوچھا گیا کہ ان نقصانات سے بچنے کا کیا کوئی منصوبہ نہیں تھا؟

برنڈ ہلڈن برانڈ نے کہا کہ 'گذشتہ سال مارکیٹ میں طیاروں کی لیز کے ریٹ بہت مہنگے تھے کیونکہ طیاروں کی مانگ بہت زیادہ تھی۔ اور یہ مت بھولیں کہ پی آئی اے ایسی کمپنی نہیں ہے جس کے ساتھ تمام لیزنگ کمپنیاں کام کرنا پسند کرتی ہیں۔ تو ہمارے لیے مناسب طیارہ تلاش کرنا آسان کام نہیں تھا۔'

یہاں یہ بات اہم ہے کہ پی آئی اے میں گذشتہ دو سالوں سے قیادت اور حکمتِ عملی کا شدید فقدان رہا ہے۔ پی آئی اے نے گذشتہ سال متعدد طیاروں کے لیے ٹینڈر جاری کیے اور سری لنکن ایئرلائنز کی طرح ان سے روگردانی کی۔

پی آئی اے کے ایک اہلکار کے مطابق سری لنکن کے ساتھ تین سے چار طیاروں کا ویٹ لیز کا معاہدہ کیا گیا تھا جسے ڈرائی میں تبدیل کرنا تھا جو نہیں کیا گیا جس سے پی آئی اے کی ایک اہم پارٹنر کے ساتھ تعلقات پر اثر پڑا۔

اس کے بعد ترکش ایئرلائنز کے طیارے کو ویٹ لیز کے لیے فائنل کیا گیا جس کے لیے ترکش ایئرلائنز طیارہ بھجوانے کو تیار تھی مگر اچانک سے بورڈ نے اسے مسترد کر دیا اور ڈرائی لیز کے لیے ٹینڈر جاری کیا جس پر پہلے دن سے زور دیا جا رہا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں