فوجی عدالتوں میں توسیع: ’ہم اسی بل سے دوبارہ ڈسے جا رہے ہیں‘

رضا ربانی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 'اب ہم دوبارہ اسی جگہ پر آگئے ہیں جہاں پر دو سال پہلے کھڑے تھے‘

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے کہا ہے کہ اُنھیں ذاتی طور پر فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کے متفق ہونے پر دکھ ہوا ہے۔

جمعے کو سینیٹ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اگر دو سال قبل21 ویں آئینی ترمیم کو پورے ایوان کی کمیٹی میں زیر بحث لایا جاتا تو شائد آج یہ حالات دیکھنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔

واضح رہے کہ جنوری سنہ 2015میں فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق21 ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں منظور کی جا رہی تھی تو رضا ربانی آبدیدہ ہو گئے تھے۔

فوجی عدالتوں کی ایک اور بیساکھی

فوجی عدالتیں کتنی مؤثر؟

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ پارٹی ڈسپلن کے پابند ہیں اس لیے اس ترمیم کے حق میں ووٹ دے رہے ہیں۔

چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ ’اب ہم دوبارہ اسی جگہ پر آگئے ہیں جہاں پر دو سال پہلے کھڑے تھے۔‘

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما چوہدری اعتزاز احسن نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی جماعت کو فوجی عدالتوں کے معاملے پر تحفظات ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اُن کی جماعت حکومت پر اعتماد کرتے ہوئے زہریلا گھونٹ پی رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ دو سال کے دوران حکومت کی طرف سے عدالتی نظام میں اصلاحات نہ لانے کی وجہ سے حکومت کے لیے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع ناگزیر ہو گئی ہے۔

چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ حکومت شارٹ کٹ سے فوری نتائج حاصل کرنا چاہتی ہے جبکہ دیرپا پالیسی بنانے میں ناکام رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالتی نظام میں ایڈہاک ازم نقصان دہ ہوتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کے19 نکات پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل کیا ہوتا تو شائد اج فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی نوبت نہ آتی۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ ’ہم اسی بل سے دوبارہ ڈسے جا رہے ہیں جس سے ہمیں نہیں ڈسے جانا چاہیے تھا۔‘

اُنھوں نے کہا کہ حکومت نے ملک کے سلامتی کے امور کے جائزہ لینے کے لیے دونوں ایوانوں کے پارلیمانی رہنماوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنانے کا وعدہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حکومت شارٹ کٹ سے فوری نتائج حاصل کرنا چاہتی ہے جبکہ دیرپا پالیسی بنانے میں ناکام رہی: اعتزاز

چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ’حکومت پر اس لیے اعتماد کر ہے ہیں کہ شائد ہم بھولے اور سادہ لوگ ہیں‘۔

جس پر حکومتی بینچوں پر بیٹھے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ’وہ اتنے بھی سادہ نہیں ہیں‘، جس پر ایوان میں قہقہ بلند ہوا۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں کا قیام کسی بھی سیاسی جماعت کی ترجیحات میں نہیں ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے اس لیے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع ناگزیر ہے۔

اسحاق ڈار نے سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’اُنھیں ان کے جذبات کا احساس ہے اور امید کرتا ہوں کہ جس دن فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا بل ایوان میں پیش کیا جائے گا تو وہ (رضا ربانی) ایوان سےغیر حاضر نہیں ہوں گے۔ ‘

اسی بارے میں