وہ ہزار کون تھے؟ پاکستان کی فیس بک سے معلومات کی درخواست

فیس بک تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سنہ 2016 کے پہلے چھ ماہ میں پاکستان نے فیس بک سے ایک ہزار صارفین کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے فیس بک سے رجوع کیا اور ان میں سے 65 فیصد کیسز میں فیس بک نے پاکستان کو یہ معلومات فراہم کر دیں تھیں۔

اس کے مقابلے میں اسی مدت کے دوران فیس بک کو انڈیا کی طرف سے اسی قسم کی آٹھ ہزار درخواستیں موصول ہوئیں۔

سوشل میڈیا پر موجود توہین آمیز مواد فوراً بلاک کرنے کا حکم

’گستاخانہ مواد پھیلانے والوں کو کڑی سزائیں دی جائیں‘

توہین آمیز مواد:’آرٹیکل 19 کی مہم میڈیا پر چلانے کا حکم‘

یہ بات آج پاکستان میں فیس بک پر بڑھتے ہوئے پریشر کے موضوع پر ہونے والے بی بی سی اردو کے فیس بک لائیو میں بی بی سی ورلڈ سروس کے سوشل میڈیا گروپ کی لیلیٰ نجفلی نے کہی۔

اس فیس بک لائیو کا موضوع تھا پاکستان میں فیس بک پر توہین مذہب کے حوالے سے پائے جانے والے مواد کے بارے میں حکومت کا ردعمل اور حالیہ بیان جس میں وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ فیس بک کی طرف سے ایک وفد پاکستان بھیجا جا رہا ہے۔

اس مباحثے میں لیلہ کے علاوہ اسلام آباد سے میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی سے منسلک ڈیجیٹل اور آن لائین حقوق کے لیے سرگرم کارکن صدف بیگ، اور بی بی سی پاکستان کے ایڈیٹر ہارون رشید نے بھی شرکت کی۔

لیلیٰ نے کہا کہ 2016 میں پیغمبرِ اسلام کے ایک خاکے پر انڈیا کی طرف سے پابندی لگائے جانے کی درخواست پر فیس بک نے یہ کہتے ہوئے خاکے کو ہٹانے سے انکار کر دیا تھا کہ اس سے فیس بک کی پالیسیوں کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ تاہم فیس بک نے انڈیا میں اس خاکے کی دستیابی روک دی تھی۔

ہارون رشید نے کہا کہ جس طرح اس سال جنوری میں پہلے سوشل میڈیا پر سرگرم کچھ بلاگرز اور سرگرم کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا اور اس کے بعد اب فیس بک پر تنقید کی جا رہی ہے، اس سے ایک تاثر یہ پیدا ہو رہا ہے کہ توہین مذہب کے قوانین کا استعمال سیاسی مخالفت پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

صدف بیگ کا کہنا تھا کہ مسئلہ شفافیت کا بھی ہے۔ لوگوں کو بِنا بتائے اگر ویب سائٹس بلاک ہو جائیں تو لوگ اس بارے میں کچھ کر نہیں پاتے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ویب سائٹس کو بلاک کرنے سے معاشرے میں عدم مساوات میں اضافہ ہوتا ہے کیوں کہ ایک طبقہ ایسا ہوتا ہے جو کہ پابندیوں کے باوجود مواد تک رسائی حاصل کر لیتا ہے اور نقصان نچلے طبقے کو ہی ہوتا ہے۔

صدف بیگ نے یہ بھی کہا کہ جہاں تک توہین مذہب کا سوال ہے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ پورا معاشرہ اس بارے میں متفق ہے۔ لیکن مسئلے تب پیدا ہوتے ہیں جب توہین مذہب کا بہانہ بنا کر اس کا استعمال ملک میں سیاسی اختلاف کو روکنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

ہارون رشید نے کہا کہ پاکستان میں توہینِ مذہب کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں جس کے لیے حکومت اس طرح کے اقدامات کرے اور یہ بھی کہ انٹرنیٹ اپنے آپ میں ایک دنیا ہے اور اس میں اگر آپ اس طرح چیزوں کی نشاندہی کرتے ہیں تو ان پر توجہ زیادہ جاتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں