اگر گرفتاری کی ضرورت ہے تو خود پیش ہونے کو تیار ہیں: ڈاکٹر فاروق ستار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ اگر گرفتاری کی ضرورت ہے تو وہ خود پیش ہونے کے لیے تیار ہیں۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے پہلے حراست میں لیے جانے اور پھر رہائی کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ آیا یہ گرفتاری تھی یا پھر صرف بات چیت۔

خیال رہے کہ جمعے کو رات گئے شارع فیصل پر پی اے ایف میوزیم کے قریب سے پولیس ڈاکٹر فاروق ستار کو اپنے ساتھ تھانہ چاکیواڑہ لے گئی تھی جہاں انھیں کچھ دیر رکھنے کے بعد جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

اس سارے واقعے کے بعد دوران ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا جس کے بعد فاروق ستار نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کیا۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اگر گرفتاری کی ضرورت ہے تو وہ خود پیش ہونے کے لیے تیار ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعلیٰ سندھ مجھ سے کہہ دیں کہ یہی پالیسی ہے تو میں خود حاضر ہو جاؤں گا۔‘

فاروق ستار نے مزید کہا کہ وہ 22 اگست سے لاتعلقی کا واضح اعلان کر چکے ہیں جس کے بعد اس قسم کے وقعات سے اچھا اثر نہیں پڑتا۔

انھوں نے کہا کہ ’اب وقت آگیا ہے کہ ان جھوٹے مقدمات کو ختم کیا جائے، اور ہمیں بھی جایز سیاسی سپیس ملنی چاہیے۔‘

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ عدالت سے بھی رجوع کریں گے۔

اس سے قبل بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق جمعے کو رات گئے ڈاکٹر فاروق ستار کو پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔

اس حوالے سے پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال 22 اگست کو ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی جانب سے کی جانے والی اشتعال انگیز تقریر کے بعد مختلف تھانوں میں مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ترجمان کے مطابق یہ گرفتاری تھانہ چاکیواڑہ میں درج ایف آئی آر پر عمل میں لائی گئی تھی۔

واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں فاروق ستار سمیت ایم کیو ایم کے متعدد رہنماؤں کے خلاف 22 اگست 2016 کی اشتعال انگیز تقریر کے خلاف کیس کی سماعت جاری ہے۔

کراچی میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی تقریر کے نتیجے میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد رینجرز کے اہلکار فاروق ستار اور سندھ اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف خواجہ اظہار الحسن کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

ہنگامہ آرائی کے دوران ایم کیو ایم کے مشتعل کارکنوں نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی تھی اور علاقے میں فائرنگ اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں ایک شخص ہلاک اور 15 زخمی ہوگئے تھے۔

تاہم ان دونوں رہنماؤں کو اگلے ہی روز چھوڑ دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں