سندھ طاس معاہدہ: انڈیا پاکستان مذاکرات کا اسلام آباد میں آغاز

چناب تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا کی طرف سے دریائے نیلم کے پانی پر 330 میگاواٹ کشن گنگا اور دریائے چناب کے پانی پر 850 میگا واٹ رتلے پن بجلی منصوبے تعمیر کر رہا ہے

پاکستان انڈیا انڈس واٹرکمیشن کے مابین دو روزہ مذاکرات پیر سے اسلام آباد میں شروع ہوگئہ ہیں جس کے لیے انڈین انڈس واٹر کمشنر پی کے سکسینا کی سربراہی میں دس رکنی وفد واہگہ بارڈر راستے لاہور پہنچا تھا۔

20 اور 21 مارچ کو اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت انڈس واٹر کمشنر مرزا آصف بیگ کریں گے ـ

سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان بھارت مذاکرات بحال

سندھ طاس معاہدہ:’ورلڈ بینک تنازع کے حل میں مرکزی کردار ادا کرے‘

لاہور سے نامہ نگار حنا سعید کے مطابق مذاکرات میں دریائے چناب پر بننے والے تین منصوبے زیر بحث آئیں گےـ دریائے چناب پر تعمیر کیے جانے والے متنازع منصوبوں میں مایار ڈیم، لوئر کلنائی ڈیم اور پاکل دل ڈیم شامل ہیں۔ انڈیا کے طرف سے پاکستان کی جانب چھوڑے جانے والا بارش کا پانی اور اس کی صحیح مقدار اور معلومات سے متعلق بھی بات چیت کی جائے گی۔

سنہ 1960 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے بعد دونوں ملکوں کے مابین پانی کے تنازعے پر یہ 113 ویں مذاکرات ہوں گے جب کہ مذاکرات میں فریقین متنازع امور کے حل کے لیے ثالثی کے قیام پربھی بات چیت کرسکتے ہیں اور اجلاس کے آخری روز مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

پاکستانی انڈس واٹر کمشنر آصف بیگ مرزا کا کہنا ہے کہ 20 اور 21 مارچ کو ہونے والے مذاکرات میں وہ انڈیا کے انڈس واٹر کمشنر سے ان منصوبوں کی تفصیلات طلب کریں گے اور اس کے بعد ہی اپنے موقف کا اظہار کریں گے۔

یاد رہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈیا اور پاکستان کے مابین تقریباً دو سال کے بعد مذاکرات کا آغاز ہو رہا ہے۔

دوسری جانب لاہور اور اسلام آباد میں متعدد کسان تنظیموں نےمذاکرات کے موقع پر مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ اتوار کو لاہور میں قومی کسان کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع تھا ’بھارت کی آبی جارحیت اور سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرناـ‘ اس موقع پر کسان تنظیموں نے کہا کہ پاکستان کو ہرگز ریگستان نہیں بننے دیں گے اور انڈیا آبی جارحیت کسی طور برداشت نہیں ہو گی، ضرورت پڑنے پرسڑکوں پر نکل کر احتجاج بھی کریں گے۔

خیال رہے کہ انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں اڑی حملے کے بعد ستمبر 2016 میں انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی زیرِ صدرات ہونے والے ایک اہم اجلاس میں پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کے تحت ہونے والے مذاکرات کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان اور انڈیا میں سندھ طاس معاہدہ 1960 میں طے پایا تھا

اس وقت نریندر مودی کی طرف سے یہ بیان بھی سامنے آیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ 'خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔' انڈین حکومت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ 57 سالہ پرانے اس معاہدہ کو ختم کرنے کی دھمکیاں بھی سامنے آئی تھیں۔

یاد رہے کہ انڈیا کی طرف سے دریائے نیلم کے پانی پر 330 میگاواٹ کشن گنگا اور دریائے چناب کے پانی پر 850 میگا واٹ رتلے پن بجلی منصوبے تعمیر کر رہا ہے۔ ان دونوں منصوبوں پر پاکستان نے اعتراضات اٹھائے ہیں اور ان منصوبوں پر پاکستان کی طرف سے ورلڈ بینک کو ثالتی کرنے کے لیے رجوع بھی کیا جا چکا ہے۔

پاکستان اور انڈیا میں سندھ طاس معاہدہ 1960 میں طے پایا تھا، جس کے تحت بیاس، راوی اور ستلج کا پانی انڈیا کو مل گیا جبکہ دریائے چناب ،جہلم اور سندھ پاکستان کے حصے میں آئے۔ اس معاہدے کے تحت ہر سال دونوں ملکوں کا ایک اجلاس ہونا لازمی ہے تاکہ متازع معاملات مل بیٹھ کر طے ہو سکیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں