کیا کوہاٹ کے امرود خطرے میں ہیں؟

  • 20 مار چ 2017
امرود
Image caption کسی زمانے میں کوہاٹ شہر کے اردگرد امرود کے بڑے بڑے گھنے اور سرسبز باغات ہوا کرتے تھے

اگر قندہار کے انار، سندھ کے آم اور کشمیر اور کابل کے سیب مشہور ہیں تو کوہاٹ کے امرود بھی کسی سے کم نہیں۔

خیبر پختونخوا کا جنوبی شہر کوہاٹ امرود کے پھل کے لیے ملک بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ یہاں سینکڑوں ایکڑ کے رقبے پر پھیلے ہوئے امرود کے باغات کوہاٹ شہر کے لیے ایک پہچان کی حیثیت رکھتے ہیں۔

لیکن اب کچھ عرصے سے زمینوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے مالکان ہرے بھرے پھل دار باغات کو کاٹ کر انھیں مکانات اور دوکانوں میں تبدیل کر رہے ہیں جس سے نہ صرف ضلعے بھر میں امرود کی پیدوار میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے بلکہ ممکن ہے کہ اس سے علاقے کے آب و ہوا پر بھی منفی اثرات پڑ رہے ہوں۔

بتایا جاتا ہے کہ کسی زمانے میں کوہاٹ شہر کے ارد گرد امرود کے بڑے بڑے گھنے اور سرسبز باغات ہوا کرتے تھے جس سے علاقے میں ہر طرف سبزہ ہی سبزہ تھا۔ جن مقامات پر امردو کے باغات کی تعداد زیادہ تھی ان میں جرونڈا، ہنگو روڈ، بنوں بائی پاس اور ڈوڈا کے مقامات قابل ذکر ہیں۔

Image caption امرود کے ایک باغ کے مالک ملک شکور نے بتایا کہ کچھ عرصے سے امرود کے باغات سے مالکان کو وہ منافع نہیں مل رہا جو پہلے ہوا کرتا تھا

تاہم آج کل ان مقامات پر بڑے پیمانے پر باغات کی کٹائی ہوئی ہے جہاں اب زیادہ تر علاقوں میں مارکیٹیں اور مکانات تعمیر ہو رہے ہیں۔

محمد صادق گذشتہ 30 برسوں سے کوہاٹ میں باغبانی سے منسلک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کوہاٹ میں امرود کے پھل کی تاریخ سو سال سے زیادہ عرصہ پرانی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کوہاٹ میں کاشت کیے جانے والے امرود کو ’آلہ بادی امرود‘ کہا جاتا ہے کیونکہ بزرگ بتاتے ہیں کہ یہاں کے امرود کا بیچ پہلی مرتبہ آلہ آباد ہندوستان سے لایا گیا تھا۔

ان کے مطابق کوہاٹ کا امرود اپنے مخصوص شکل اور ذائقے کی وجہ سے ملک بھر میں خصوصی شہرت رکھتا ہے اور ایسا میٹھا امرود کہیں اور پیدا نہیں ہوتا۔

گھڑی معاذ خان کوہاٹ میں واقع امرود کے ایک باغ کے مالک ملک شکور نے بتایا کہ کچھ عرصے سے امرود کے باغات سے مالکان کو وہ منافع نہیں مل رہا جو پہلے ہوا کرتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ شہر میں زمنیوں کی قیمتیں تیزی سے بڑھتی جارہی ہے جس کی وجہ سے مالکان کو اس میں زیادہ فائدہ نظر آتا ہے کہ باغ کو مارکیٹ میں تبدیل کیا جائے یا وہاں مکانات تعمیر کر کے کرائے پر دے دیا جائے۔

انھوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہر سال کوہاٹ اور قرب وجوار کے مقامات پر امرود کی پیداوار کم ہوتی جارہی ہے جبکہ محکمہ زراعت کی طرف سے باغات کے تحفظ کے لیے کوئی خاص اقدامات نظر نہیں آتے جس سے مالکان مجبور ہو کر باغات ختم کر رہے ہیں۔

کوہاٹ میں مجموعی طورپر امرود کے باغات 2300 ایکڑ کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں لیکن گذشتہ چند سالوں کے دوران اس میں تقریباً دو سو ایکڑ کے رقبے پر محیط زرعی زمین ختم ہوچکی ہے، جہاں اب امرود کے درختوں کی جگہ مکانات اور مارکیٹوں کی چمک دمک نظر آتی ہے۔

کوہاٹ میں محکمہ زراعت کے ضلعی افسر ظاہر اللہ خٹک نے الزام لگایا ہے کہ ’لینڈ مافیا‘ اور کچھ دیگر وجوہات کے باعث امرود کے باغات تیزی سے ختم ہوتے جارہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ محکمہ زراعت کوہاٹ نے امرود کے باغات کے تحفظ کے لیے حال ہی میں ’امرود بچاؤ‘ کے نام سے ایک مہم کا آغاز کیا ہے جس میں باغات کے مالکان کے ساتھ جرگے کیے جا رہے ہیں اور زیادہ سے زیادہ پودے اگانے کے لیے تربیت فراہم کی جارہی ہے۔

Image caption محکمہ زراعت کوہاٹ نے امرود کے باغات کے تحفظ کےلیے حال ہی میں 'امرود بچاؤ' کے نام سے ایک مہم کا آغاز کیا ہے

تاہم ضلعی افسر کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں زرعی زمینوں کو ختم کر کے کمرشل مقاصد کےلیے استعمال کرنے کے ضمن میں کوئی قانون موجود نہیں جس کی وجہ سے مالکان کو اپنی مرضی کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب تک حکومت زرعی زمینوں کے ختم کرنے پر جرمانے اور سزائیں مقرر نہیں کرتی اس وقت تک امرود کے باغات کو بچانا مشکل نظر آتا ہے۔

ضلعی افسر کا مزید کہنا تھا کہ کوہاٹ کے بیشتر مالکان اپنے باغات کو ’اجارہ‘ پر دیتے ہیں اور ایسا کرنے کی صورت میں زمیندار کا پودے کی نگہداش سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اور اس طرح ہرے بھرے باغات تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں۔