نواز شریف نے پاک افغان سرحد کو فوری طور پر کھولنے کے احکامات جاری کر دیے

Image caption آٹا، چاول ، ادویات سے لیکر عام استعمال کی کئی اشیاء پاکستان سے افغانستان جاتی ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے احکامات جاری کیے ہیں کہ پاک افغان سرحد کو فوری طور پر کھول دیا جائے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں شدت پسندی کے حالیہ واقعات کی پشت پناہی افغانستان میں موجود پاکستان مخالف عناصر کی جانب سے گئی تاہم سرحد کھولنے کا یہ فیصلہ جذبۂ خیرسگالی کے طور پر کیا جا رہا ہے۔

پاک افغان سرحد عبور کرنے کے لیے’ہزاروں افراد جمع‘

بیان کے مطابق سرحد کی یہ بندش دراصل دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری مذہبی، ثقافتی اور تاریخی رابطوں کی بندش بھی تھی اس لیے سرحدوں کا زیادہ دیر بند رہنا عوامی اور اقتصادی مفاد میں نہیں۔

وزیراعظم نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ جن وجوہات کی بنا پر سرحد بند کی گئی تھی، ان کے تدارک کے لیے افغان حکومت اقدامات کرے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ امن و سلامتی کے لیے افغانستان میں دیرپا امن ناگزیر ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغان حکومت سے تعاون جاری رکھیں گے۔

طورخم میں پولیٹیکل انتظامیہ کے تحصیل دار شمس خان نے بی بی سی کو بتایا کہ تاحال انھیں سرحد کھولنے کے احکامات موصول نہیں ہوئے ہیں اور تاحال سرحد بند ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان نے ملک میں شدت پسندی کی تازہ لہر میں 100 سے زیادہ ہلاکتوں کے بعد 16 فروری کو سیکیورٹی خدشات کے باعث سرحد کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ ملک میں حالیہ دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے والے شدت پسند افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

یہ سرحد خیبر ایجنسی میں طورخم کے مقام پر، جنوبی وزیرستان میں انگور اڈا، اور بلوچستان میں چمن کے مقام پر بند کی گئی تھی۔

اسی بارے میں